حوثیوں نے یمنی بچے کو ’داعشی‘ قرار دے کر ابدی نیند سلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

یمن کے شہر تعز کے مشرق میں باغی حوثی ملیشیا نے اپنے سیکورٹی چیک پوائنٹ پر ایک 15 سالہ یمنی لڑکے کو مار ڈالا۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا کے ارکان نے الحوبان کے علاقے میں اپنے سیکورٹی چیک پوائنٹ پر ٹرانسپورٹ کی ایک گاڑی کو روکا جو تعز سے آ رہی تھی۔ حوثیوں نے مسافروں میں داعش کی موجودگی کے نام پر مسافروں کی اہانت کی جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حوثیوں نے زبردستی مسافروں کو گاڑی سے اتارا اور 15 سالہ لڑکے باسم فؤاد المجیدی کو گولیاں سے بھون ڈالا۔ اس مجرمانہ کارروائی کے بعد گاڑی کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق مقتول لڑکے کا گھرانہ حوثیوں کے زیر کنٹرول تعز شہر کے ایک نواحی علاقے میں سکونت پذیر ہے۔ یہ گھرانہ شہد تیار کی تیاری اور فروخت کا کام کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا جرم نہیں۔ حوثی ملیشیا اکثر تعز شہر اور الحوبان کے علاقے کے درمیان راستے پر مسافروں کو روک کر لوگوں کو قتل یا گرفتار کرتی ہے۔ ان افراد پر داعشی ہونے اور دشمن (یمنی حکومت اور عرب اتحاد) کا ہمنوا ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں