سعودی عرب کا پہلا سرکاری اسکول جسے شاہ عبدالعزیز نے بھی شرف بخشا

مکہ معظمہ میں قائم الرحمانیہ اسکول 111 سال پرانا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب اسکولوں، تعلیمی اداروں اور اور معیاری درسگاہوں میں خود کفیل ہے۔ مملکت میں سیکڑوں پرانے اسکول قائم ہیں جو ماضی کے علمی اور تدریسی سفر کی حسین یادگاربھی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےسعودی عرب کے پرانے اسکولوں میں مکہ معظمہ میں قائم الرحمانیہ اسکول مملکت کا پہلا سرکاری اسکول ہے جس کی عمر 111 سال ہے۔ سعودی عرب کی وزارت تعلیم کی ویب سائٹ پر پوسٹ کردہ تصاویر اور ایک دستاویز کے مطابق الرحمانیہ اسکول 1330ھ کو قائم کیا گیا۔ اس اسکول کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مملکت آل سعود کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے بھی اس اسکول کا وزٹ کیا۔

رحمانیہ اسکول کے سابق پرنسپل خالد الحسینی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 1441ھ کو رحمانیہ اسکول نے اپنے طویل تعلیمی دورانیے کے 111 سال مکمل کرلیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ الشیخ محمد حسین خیاط اس اسکول کے بانی تھے۔ سنہ 1354ھ تک اس اسکول کو'مسعیٰ اسکول' کے نام سے یاد کیا جاتا۔ اس کے بعد اس کی عمارت الصفا منتقل کی گئی۔ حرم مکی شریف کی 13756ھ میں توسیع کے بعد یہ اسکول القرارہ کالونی میں منتقل ہوگیا اور اس کے بعد یہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم کے ماتحت کام کررہا ہے۔

شاہ عبدالعزیز نے مسعیٰ اسکول کا دورہ کیا ان کے والد امام عبدالرحمان کے نام سے اسکول کو الرحمانیہ کانام دیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ اسکول 'الرحمانیہ' کے نام سے مشہور ہے۔

الحسینی کا کہنا ہے کہ ابتدا میں اس اسکول میں متعدد تعلیمی کلاسز ہوتی تھیں جن میں 50 طلباء وطالبات زیرتعلیم تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں