مصر : 92 سالہ سرطان کے مریض نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

"نا امیدی کے ساتھ جیون نہیں اور جیون کے ساتھ نا امیدی نہیں"... یہ مشہور قول مصر کے سابق رہ نما مصطفی کامل کا ہے جسے ان کے ایک 92 سالہ ہم وطن شہری نے ثابت کر دکھایا۔

مصری عمر رسیدہ شہری "محمد القبانی" نے غربت اور سرطان جیسی جان لیوا بیماری میں گِھرے ہونے کے باوجود اپنی تعلیم مکمل کرتے ہوئے کچھ عرصہ قبل جامعہ الازہر سے "دعوہ اسلامیہ" میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر لی۔

القبانی کا تعلق مصر کے صوبے الشرقیہ کے ایک گاؤں العواسجہ سے ہے۔ انہوں نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی جس کے بعد غربت کے سبب مجبور ہو کر وہ یہ سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ القبانی کھیتی باڑی میں اپنے گھرانے کی مدد کرنے میں جت گئے۔

جوان ہونے کے بعد محمد القبانی وزارت اوقاف میں نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی شادی ہوئی اور وہ 6 بچوں کے باپ بنے۔ ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ البتہ القبانی کا بچپن سے ہی یہ خواب تھا کہ وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ پورا کریں جو حالات کے کے سبب موقوف ہو گئی تھی۔

محمد القبانی کے بیٹے ابراہیم القبانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ایک روز کام کے دوران ان کے والد کو تعلیم مکمل نہ کرنے کے باعث اپنے ڈائریکٹر کے ہاتھوں اہانت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی روز القبانی نے ٹھان لی کہ اب خواہ کتنی ہی مشکلات آئیں مگر وہ اپنی تعلیم کو پورا کریں گے۔ اس وقت القبانی کی عمر 47 برس تھی۔

القبانی نے الازہر کا سہارا لیا جہاں انہیں براہ راست اعلی ثانوی مرحلے میں داخلہ مل گیا۔ انہوں نے اعلی ثانوی کا امتحان پاس کرنے کے بعد جامعہ الازہر میں کلّیہ دعوہ اسلامیہ میں داخلہ لے لیا۔ وہ ساٹھ برس کی عمر کے بعد گریجویشن کی ڈگری لے کر فارغ التحصیل ہوئے۔ القبانی نے قرآن کریم کا مکمل حفظ بھی کر لیا تھا۔

القبانی نے بڑھاپے اور صحت کی ناگفتہ حالت کے باوجود اسی شعبے میں ماسٹرز پروگرام میں اپنا اندراج کروا لیا۔ اس دوران انہیں پروسٹیٹ کے سرطان میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا۔ بیماری کے سبب انہیں قاہرہ میں جامعہ الازہر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

القبانی کے بیٹے کے مطابق گھر والوں نے خراب صحت کے سبب القبانی سے تعلیم کا سلسلہ روک دینے کی التجا کی مگر وہ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے پر مصر رہے۔ آخرکار القبانی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔

ان دنوں محمد القبانی اپنا وقت گاؤں میں دین کی دعوت دینے میں گزارتے ہیں۔ وہ مساجد کے منبروں پر بیٹھ کر دین کی صحیح تعلیمات پھیلاتے ہیں۔

القبانی کے بیٹے نے بتایا کہ ان کے والد نے عود (ایک آلہ موسیقی) بجانا بھی سیکھا ہے۔ وہ اس کو بجا کر دینی ترانے پیش کرتے ہیں۔ القبانی کے بیٹے کے مطابق ان کے والد زندگی اور علم سے محبت کرنے والی شخصیت ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں