.

اسرائیل میں عربوں کے بائیکاٹ میں انتہا پسند یہودی جماعتیں ملوث ہیں: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی عرب برادری سے تعلق رکھنے والی رکن عایدہ توما نے جمعہ کے روز سرکاری وکیل ایوچائی منڈلبلٹ سے ٹیلی ویژن پر نشر اس رپورٹ کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دائیں بازو کے یہودی آباد کار گذشتہ انتخابات میں عربوں کے بائیکاٹ کی مالی اعانت فراہم کرتے رہے ہیں۔

' جمہوری محاذ برائے امن و مساوات' کی رہ نما توما نے کہا کہ انہوں نے اٹارنی جنرل کو ایک خط میں کہا ہے کہ 'پچھلے انتخابات کے بائیکاٹ کی حمایت کرنے میں حکمران جماعت (لیکوڈ) اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں کی شمولیت کی تحقیقات کریں'۔

مسز توما نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ "ان مہمات کو عرب برادری کے خلاف اکسانے کی عام فضا سے لگ نہیں کیا جاسکتا۔ ان جماعتوں کا ارادہ ہے کہ انتخابی دن کے موقع پر ہی مہم کو دوبارہ شروع کریں۔"

جمعرات کی شام عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے چینل 12 نے ایک رپورٹ نشر کی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ "اپریل میں ہونے والے انتخابات میں عربوں کے بائیکاٹ کی مہم کو دائیں بازو کی اسرائیلی جماعتوں کی طرف سے مالی مدد فراہم کی گئی تھی۔ عربوں کے بائیکاٹ کے بینرز اور پوسٹر چھاپنے کے لیے ان جماعتوں نے ایک چوتھائی ملین شیکل یعنی 70 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی رقم فراہم کی تھی۔

پرنٹنگ پریسز کی انتظامیہ نے یہ بینرز بغیر چہرے دکھائے پرنٹ کیے۔ انہوں نے بتایا کہ پوسٹروں کی طباعت دائیں بازو کے آبادکاروں کی درخواست پر ہے۔

انہوں نے صارفین کے نام نہیں بتائے لیکن کہا کہ پرنٹنگ کے بل مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو بھیج دیئے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں 17 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے ایک مشترکہ محاذ تشکیل دیا ہے۔

عربوں کی چار سیاسی جماعتوں نے پچھلے انتخابات دو سیاسی گروپوں کے ذریعے نمائندگی کی۔ انہوں نے گذشتہ انتخابات میں 120 کے ایوان میں 10 سیٹیں جیتی تھیں جب کہ سنہ 2015ء میں ہونے والے انتخابات میں عرب نمائندوں کی نشستوں کی تعداد 13 تھی۔

رواں سال اپریل میں ہونے والے انتخابات میں عرب ووٹرز کی تعداد 2015ء کے مقابلے میں 64 فیصد سے کم ہوکر 49.7 فیصد رہ گئی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں عرب آبادی 14 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ان میں ایک لاکھ 60 ہزار عرب باشندے سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد ہیں۔ عرب آبادی مجموعی طورپر اسرائیلی ریاست کی آبادی کا 20 فی صد ہے۔ عرب ہونے کی وجہ سے صہیونی ریاست ان کےساتھ منظم انداز میں امتیازی سلوک کرتی ہے۔