امریکا نے جواد ظریف کو ایرانی مندوب کی تیمارداری سے کیوں روکا؟
امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو امریکا میں ایرانی سفیر ماجد تخت کی عیادت سے روک دیا۔
فارن پالیسی میگزین کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف مقامی اسپتال میں زیر علاج ایرانی سفیر کی عیادت کو جانا چاہتے تھے تاہم امریکی حکام کی جانب سے انہیں اجازت نہیں دی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ اپنی رہائش گاہ کے قریب ہی موجود اسپتال میں ایرانی سفیر ماجد تخت کی عیادت کو جانا چاہتے تھے جو کہ کینسر کے علاج کیلئے اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
فيديو .. رجل أمن في الأمم المتحدة يمنع وزير الخارجية الإيراني ظريف من التحرك خارج المساحة المحددة له بعد العقوبات الأميركية المفروضة عليه pic.twitter.com/GwpsHbg2LD
— العربية (@AlArabiya) September 28, 2019
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جواد ظریف کو صرف اس صورت میں اجازت مل سکتی تھی اگر ایرانی حکومت ایران میں قید امریکیوں میں سے کسی ایک کو بھی رہا کر دیتی۔
امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے متعدد امریکی شہریوں کو کئی سالوں سے غیر منصفانہ طور پر قید کر رکھا ہے، ہم نے ایرانی مشن پر واضح کردیا ہے کہ ایران کسی ایک امریکی شہری کو رہا کر دے تو ایرانی مشن پر سے سفری پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔
دوسری جانب ایران نے واقعے پر امریکی حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے کہا کہ یہ رویہ بالکل غیر انسانی اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی حراست میں 4 امریکی شہری موجود ہیں جنہیں ایران نے مبینہ طور ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں قید کیا ہوا ہے۔
امریکی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ایران نے جون میں لبنانی نژاد امریکی شہری کو رہا کیا تھا، اس کے بعد اب امریکا کی باری ہے کہ وہ کسی ایرانی شہری کو رہا کرے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی مشرق وسطیٰ میں پالیسیوں کے خلاف ایرانی شہریوں پر امریکا کے سفر پر پابندیاں لگانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ گذشتہ دنوں انہوں نے ایک اعلیٰ ایرانی حکومتی اہلکار کو امریکا کے سفر سے روکنے کا حکم دیا تھا۔