بغداد:عراقی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلا دی، تین افراد ہلاک،200 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور کم سے کم دو سو خمی ہوگئے ہیں۔عراقی حکومت نے ایک بیان میں صرف ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ زخمیوں میں چالیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق منگل کے روز ہزاروں عراقی ملک میں بے روزگاری، حکومت کی کرپشن اورپست تر شہری خدمات کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے،پانی توپ کا استعمال کیا اور براہ راست گولیاں چلائی ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے ابتدا میں ہوائی فائرنگ کی تھی۔البتہ یہ واضح نہیں ہوا کہ انھوں نے اس کے فوری بعد براہ راست فائرنگ شروع کردی تھی لیکن برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے رپورٹروں نے پانچ مظاہرین کو خون آلود چہروں کے ساتھ دیکھا ہے۔ایمبولینسوں کے ذریعے ان سمیت مزید زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ مظاہرین کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ تھی۔ وہ بغداد کے قلعہ نما گرین زون کی جانب جانے والے ایک پُل کو عبور کرنے کی کوشش کررہے تھے اور اس دوران میں پولیس نے ان پر گولیاں چلائی ہیں۔گرین زون میں عراقی حکومت کے دفاتر ، عمارتیں اور غیرملکی سفارت خانے واقع ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے گرین زون کی جانب جانے والی شاہراہوں کو بند کررکھا تھا۔انھوں نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے پہلے آواز پیدا کرنے والے دستی بم پھینکے۔مظاہرین نے وہ جگہ چھوڑنے سے انکار کردیا تو پھر ان پر سکیورٹی فورسز نے گولی چلا دی۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ’’ یہ حکومت نہیں بلکہ ملیشیاؤں اور جماعتوں کا ایک جتھا ہے جو عراق کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔‘‘

دریں اثناء وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔اس کے بعد جاری کردہ بیان میں گریجوایٹس کو ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔عراقی وزیراعظم نے وزارتِ تیل اور دوسرے سرکاری اداروں میں بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ غیرملکی کمپنیوں کو ٹھیکا دیتے وقت ملازمتوں میں مقامی ورکروں کے لیے پچاس فی صد کوٹا مختص کیا جائے۔

واضح رہے کہ عراق کے جنوبی شہروں میں گذشتہ سال کے اوائل میں بھی بے روزگاری ، ارباب اقتدار کی بدعنوانیوں ، بجلی کی کئی کئی گھنٹے تک بندش اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ بصرہ اور دوسرے شہروں میں اس احتجاجی تحریک کے دوران بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں