شام سے انخلا ، امریکی فورسز سحیلہ کی سرحدی گزر گاہ کے راستے عراق میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے پیر کے روز بتایا ہے کہ امریکی فورسز سحیلہ کی سرحدی گزر گاہ کے راستے شام سے عراق میں داخل ہو گئی ہیں۔ مذکورہ گزر گاہ عراق کے شمالی صوبے دھوک میں واقع ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے کیمرہ مین نے شام سے امریکی انخلا کے سلسلے میں 100 سے زیادہ بکتر بند گاڑیوں کو امریکی فوجیوں کو لے کر سرحد پار کرتے ہوئے دیکھا۔

ادھر عراق میں ایک کرد سیکورٹی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فورسز سرحد پار کر کے عراقی کردستان پہنچیں جہاں کی انتظامیہ نیم خود مختاری پر عمل پیرا ہے۔

اس سے قبل العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے کیمروں نے اتوار کے روز درجنوں ٹرکوں کو امریکی فوجی اڈوں کا رخ کرتے ہوئے دیکھا تا کہ وہاں سے ہتھیار اور عسکری ساز و سامان منتقل کیا جا سکے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق مذکورہ ٹرک تمام فوجی اڈوں سے ہتھیار اکٹھا کریں گے۔ ان میں سے بعض الشدادی کی سمت جائیں گے تا کہ وہاں سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے منتقلی کی جا سکے اور بعض دیگر عراقی اراضی میں داخل ہونے کے لیے فیشخابور کی گزر گارہ کا رخ کریں گے۔

شامی حکومتی میڈیا نے اتوار کے روز بتایا کہ امریکی فورسز نے تل بیدر میں القلیب کے فوجی اڈے سے انخلا کے بعد اسے تباہ کر دیا۔ مزید یہ کہ امریکی فورسز سد السابع کے نزدیک "لائف اسٹون" کے فوجی اڈے سے انخلا کی تیاری کر رہی ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ شمالی شام سے نکلنے والے تمام امریکی فوجی جن کی تعداد تقریبا ایک ہزار ہے ،،، وہ عراق کے مغربی حصے میں منتقل ہوں گے تا کہ داعش تنظیم کے خلاف مہم جاری رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں