لبنان:عوامی احتجاجی تحریک کا پانچواں روز، کابینہ کا صدارتی محل میں اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان میں حکمراں اشرافیہ کے خلاف احتجاجی تحریک طول پکڑتی جارہی ہے جبکہ وزیراعظم سعد الحریری کے زیر قیادت کابینہ نے احتجاجی مظاہروں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا ہے۔سوموار کو کابینہ کا یہ اجلاس صدر میشیل عون نے طلب کیا تھا۔

اس اجلاس میں کابینہ نے ملک کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے اور مظاہرین کے غیظ وغضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وزیراعظم کے پیش کردہ اقتصادی پیکج کی منظوری دی ہے۔اس کے تحت وزراء کی تن خواہیں نصف تک کم کی جارہی ہیں۔

لبنانی ایوان صدر نے قبل ازیں صدر مشیل عون کا ایک بیان سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’سڑکوں پر جو کچھ ہورہا ہے، یہ عوام کے درد کی عکاسی کرتا ہے،لیکن ہر کسی کو بدعنوانی کا مورد الزام ٹھہرانا غیر منصفانہ ہے۔‘‘

ایوان صدر کے مطابق اجلاس میں وزیر وائیلٹ صفادی سمیت لبنانی فورسز سے تعلق رکھنے والے وزراء اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔انھوں نے گذشتہ روز اپنے استعفے پیش کردیے تھے۔

اتوار کو لبنان کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے بیروت میں حکمراں اشرافیہ اور ان کی بدعنوانیوں کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ یہ گذشتہ کئی برس کے بعد ملک میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا۔

سوموار کی صبح بھی مظاہرین نے دارالحکومت کی بڑی شاہراہیں دوبارہ بند کرنا شروع کردی تھیں۔وہ سرکاری ملازمین کو کام پر جانے سے روک رہے تھے اور سوشل میڈیا پر لوگوں سے کام چھوڑ ہڑتال کی اپیلیں کررہے تھے۔آج بنک ، جامعات اور اسکول بھی بند ہیں۔

مظاہرین نے وزیراعظم سعد الحریری کی گذشتہ ہفتے پیش کردہ ٹیکس اصلاحات کو مسترد کردیا۔ ان کی حکومت نے گذشتہ ہفتے وٹس ایپ پر کال سمیت پیغام رسانی کی مختلف سروسز پر ٹیکس کے نفاذ کی تجویز پیش کی تھی جس کے خلاف جمعرات کو لبنانی شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔حکومت نے اس احتجاج کے بعد اپنی مجوزہ ٹیکس اصلاحات کو واپس لے لیا تھا۔

اس کے بعد اتوار کو لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے ملک میں جاری احتجاجی تحریک پر قابو پانے کے لیے اپنا نیا اقتصادی منصوبہ پیش کیا تھا اور عوامی مطالبات کے پیش نظر انھوں نے بعض نئے اقدامات متعارف کرائے تھے۔ان مجوزہ اصلاحات کے تحت موجودہ اور سابق وزراء کی تن خواہوں میں پچاس فی صد کٹوتی کی جائے گی۔ بنکوں اور بیمہ کمپنیوں پر پچیس فی صد ٹیکس نافذ کیا جائے گا، ججوں اور سرکاری افسروں کی تن خواہیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں گی اور آرمی اور سکیورٹی فورسز کی پینشن پر کی جانے والی تمام کٹوتیوں کو ختم کیا جارہا ہے۔

سعد الحریری نے گذشتہ جمعہ کو ایک نشری تقریر میں اپنی حکومت میں شامل شراکت داروں سے کہا تھا کہ وہ آیندہ بہتر گھنٹے میں مجوزہ اصلاحات کے بارے میں سنجیدگی کا اظہار کریں ، ورنہ وہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے۔

انھوں نے حکومت کے شراکت داروں کو اصلاحات کو بالائے طاق رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ لبنانی عوام نے ہمیں بہت سے مواقع دیے ہیں۔وہ اصلاحات اور ملازمتوں کے مواقع کی توقع کرتے ہیں۔ہم مسئلے کے حل کے لیے اپنے شراکت داروں کا مزید انتظار نہیں کرسکتے۔‘‘

بیروت اور دوسرے شہروں میں مرد وخواتین اور بچے ان حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں۔وہ سرکاری حکام کی کرپشن اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔وہ حکومت کے کفایت شعاری کے لیے مجوزہ اقدامات اور انحطاط کا شکار انفرااسٹرکچر کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اب وہ لبنان کے پورے سیاسی نظام میں اصلاحات اور حکمراں اشرافیہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں