عراق میں پُرتشدد مظاہرے جاری، وزیراعظم کا انتخابی اصلاحات کا وعدہ
عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ملک میں جاری پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ہلاکتوں کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد کو جلد رہا کردیا جائے گا۔انھوں نے آیندہ چند روز میں انتخابی اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔
ان کے اس اعلان سے قبل جنوبی شہر بصرہ میں احتجاجی مظاہروں میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ العربیہ کے ذرائع کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلائی ہیں۔مظاہرین نے مقامی حکومت اور سرکاری دفاتر میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔
وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ جن اہلکاروں نے لوگوں کو قانونی فریم ورک سے ماورا اغوا یا گرفتار کیا اور ان پر حملے کیے ،ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔
انھوں نے اعتراف کیا کہ ’’ مظاہروں سے سیاسی گروپوں اور حکومت پر اصلاحات کے لیے دباؤ پڑا ہے ۔تاہم مسلسل مظاہروں سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، انھیں بحال ہونے دیا جائے،اس سے مظاہرین کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔‘‘انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سیاسی جماعتوں نے گذشتہ سولہ سال کے دوران میں بہت سی غلطیاں کی ہیں۔
عراق کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بصرہ میں جمعرات کی شب نقاب پوش مسلح افراد نے مظاہرین پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور120 زخمی ہوگئے تھے۔
ادھر دارالحکومت بغداد میں شاہراہ الرشید پر سیکڑوں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔العربیہ کے نمایندے نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین نے ایک مرتبہ پھر شہداء پُل کی طرف جانے کی کوشش کی تھی لیکن سکیورٹی فورسز نے انھیں زبردستی روک دیا اور انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے جاری حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 270 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکاراحتجاجی ریلیوں میں شریک مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلاتے ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے اور2003ء میں امریکا کی چڑھائی کے بعد عراق میں نافذ سیاسی نظام میں مکمل اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ ملک کی سیاسی اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن ، قومی خزانے میں لوٹ کھسوٹ،بے روزگاری کی بلند شرح اور سرکاری خدمات کے پست تر معیار کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔