عراق : جنوب کے متعدد صوبوں میں عام ہڑتال
عراق میں آج اتوار کے روز عام ہڑتال کا آغاز متوقع ہے۔ اس ہڑتال میں سرکاری اور نجی دفاتر کے علاوہ اسکول اور یونیورسٹیز شامل ہوں گی۔ ہڑتال کی کال الصدر گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر اور دیگر کارکنان نے دی ہے۔ اس کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تا کہ وہ دھرنوں میں بیٹھے مظاہرین کے مطالبات پر عمل درامد کرے۔
بغداد میں ہفتے کے روز احتجاج کے علاقوں میں نسبتا خاموشی دیکھی گئی۔ اس سے قبل مظاہرین عراقی دارالحکومت میں السنک پُل کے ایک حصے اور الخلانی اسکوائر پر قبضہ کر لینے کے بعد دوبارہ دھرنے میں بیٹھ گئے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز بھی پیچھے ہٹ گئیں جنہوں نے دو ہفتے قبل ان مظاہرین کو پیش قدمی سے روک دیا تھا۔
بغداد کے جنوب میں واقع صوبے بابل میں اتوار کے روز کام کے سرکاری اوقات کو معطل کر دینے کا اعلان کیا گیا جو سول نافرمانی کی جانب اشارہ ہے۔ اس اقدام میں واسط، ذی قار اور میسان کے صوبے بھی شامل ہو گئے۔
عراقی وزارت تعلیم نے اپنے طور پر باور کرایا ہے کہ جن صوبوں میں سرکاری اوقات معطل کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا وہاں تمام اسکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ وزارت تعلیم نے طلبہ اور ملازمین کو غیر حاضری سے خبردار کیا۔
بغداد میں مظاہرین نے گرین زون کی جانب جانے والے مرکزی راستوں پر واقع پُلوں کے نزدیک دھرنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنان نے زور دیا ہے کہ کل پیر کے روز "ہنگامے کا دن" کے نام سے مظاہرے کیے جائیں ، اس دوران آلات موسیقی کا استعمال کیا جائے۔
بغداد میں التحریر اسکوائر پر دو رضاکار ڈاکٹروں کی شادی منعقد ہوئی جنہوں نے مظاہرین کے مطالبات پر عمل درامد ہونے تک اسی مقام پر رہنے کے لیے اصرار کیا۔ نوبیاہتا جوڑے نے زخمیوں کے علاج کے لیے التحریر اسکوائر کے وسط میں قائم میڈیکل کیمپ میں اپنا ہنی مون گزارنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل ایک عراقی سیکورٹی ذریعے نے "العربیہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ذی قار صوبے کی الغراف ڈسٹرکٹ میں عسکری کمک پہنچا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مظاہرین کو سرکاری ذمے داران کے گھر نذر آتش کرنے سے روکنا ہے۔