.

یمن میں سعودی عرب کے خلاف ایرانی اور اخوانی سازش طشت ازبام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نیوز " The Intercept" نے ایرانی انٹلیجنس کی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون ترکی میں سعودی عرب کے خلاف منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔ خفیہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوان اورایرانی پاسداران انقلاب نے یمن کی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکی نیوز ویب سائٹ نے سعودی عرب کے خلاف کارروائی کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمین کے مابین ہونے والے اجلاس کی میزبانی کے بارے میں معلومات شائع کی ہیں۔

ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی تیار کردہ خفیہ دستاویزات کے مطابق سنہ 2014ء کو ترکی میں ایرانی پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون کے لیڈروں پر مشمتل ایک اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب کو کمزور کرنے کے لیے یمن کی سرزمین کو استعمال کرنے اور دیگر آپشن پرغور کیا تھا۔

لیک کی گئی دستاویزات میں شامل معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اخوان کے نمائندوں نے سعودی عرب سے سخت نفرت کا اظہار کیا اور پاسداران انقلاب سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن سے سعودی عرب کو حملوں کا نشانہ بنائے۔

ایرانی دستاویزات میں صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد اخوان المسلمون اور ایرانی عہدیداروں کی طرف سے رابطے برقرار رکھنے اور سعودی عرب کے خلاف سازشوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔

خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال اپریل میں ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عاید کی تھیں۔ امریکا اگلے مرحلے میں اخوالمسلمون کو بھی ایک غیرقانونی اور دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عاید کرنے پرغور کررہا ہے۔

ان دستاویزات کی جن کا ایک حصہ دی نیویارک ٹائمز کے ذریعہ شائع ہوا تھا نے عراق میں ایرانی مداخلت کی حد اور سلیمانی کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی حمایت میں بغداد کے دورے کا انکشاف شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ سنی مکتب فکر کے دشمن نوری المالکی اب بھی عراق میں ایران کی ایک پسندیدہ شخصیت ہیں۔

دی انٹرسیپٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویزات میں دلچسپ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ان میں یہ بھی شامل ہے کہ ترکی کے ایک ہوٹل میں قدس فورس کے اہلکاروں اور اخوان المسلمون کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات تہران کومہیا کرنےکے لیے ایران کی طرف سے ایک جاسوس بھی بھرتی کیا تھا۔

خفیہ ایجنٹ نے تمام انٹرویوز اور زیر بحث تمام نکات کی تفصیلات سے ایران کو آگاہ کیا۔ یہ ایجنٹ صرف جاسوسی کی ذمہ داری تک محدود نہیں تھا بلکہ اسے ملاقات کے کوآرڈینیٹر کی ذمہ داری پر بھی مامور کیا گیا تھا۔

لیک ہونے والی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ ایرانی وزارت داخلہ اور انقلابی گارڈز ایک دوسرے کی جاسوسی بھی کرتے ہیں۔ ترکی میں ہونے والی ملاقات کے دوران جاساسی کا تنازع زیادہ شدت اختیار کرگیا تھا۔

اگرچہ ترکی کو اس طرح کےاجلاسوں کے لیے محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے ، لیکن یہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو ایران اور اخوان المسلمون کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ ترک حکومت کو ابھی بھی دنیا کے ساتھ اپنے رویوں کی حقیقت کو چھپانا پڑتا ہے۔ ، لہذا ایرانی انٹلیجنس دستاویزات کے افشا ہونے کے مطابق اس نے قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ویزا دینے سے انکار کردیا۔ چونکہ سلیمانی ترکی میں داخل ہونے سے قاصرتھا اس لیے سلیمانی کے ایک نائب صدر باسم ابو حسین کی سربراہی میں قدس فورس کے سینیرعہدیداروں کے وفد نے اجلاس میں شرکت کی۔