لبنان کے سابق وزیرتعلیم حسان دیاب نئے وزیراعظم نامزد
لبنان کے صدر میشیل عون نے سابق وزیرتعلیم حسان دیاب کو ملک کا نیا وزیراعظم کردیا ہے اور انھیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔
لبنان کے ایوان صدر نے جمعرات کی شام بیروت میں ایک بیان میں کہا ہے کہ’’صدر نے لازمی پارلیمانی مشاورت کے بعد حسان دیاب کو بلا بھیجا ہے اور انھیں وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی ذمے داری سونپی ہے۔‘‘
قبل ازیں لبنانی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر ایلی الفرزلی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے سابق وزیر تعلیم حسان دیاب کو وزیراعظم نامزد کیا ہے۔ڈپٹی اسپیکر شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے اتحادی ہیں۔ان کا اعلان اس بات کا بھی مظہر ہے کہ حزب اللہ اور اس کے اتحادی حسان دیاب کی نامزدگی سے متفق ہیں۔
لبنانی صدر میشیل عون نے جمعرات کو سارا دن پارلیمان کے ایک سو اٹھائیس ارکان سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے بارے میں مشاورت کی ہے اور ان سے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے بارے میں رائے طلب کی ہے۔
ان سے قبل لبنان کے نگران وزیراعظم سعد الحریری نے آیندہ حکومت کا سربراہ بننے سے معذرت کر لی تھی اور وہ وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہوگئے تھے۔اس کے بعد حسان دیاب ہی واحد انتخاب رہ گئے تھے۔
واضح رہے کہ لبنان میں فرقہ وار بنیاد پر مروج نظام حکومت کے تحت وزیراعظم کا منصب سنی مسلمانوں کے لیے مختص ہے۔ پارلیمان کا اسپیکر شیعہ ہوتا ہے اور صدر مسیحی اقلیت سے تعلق رکھتا ہے۔