'داعش' کے آدھے جنگجو مغرب سے تعلق رکھتے ہیں: سربراہ رابطہ عالم اسلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور سینیر علماء کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر محمد العیسٰی نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم'داعش' کی صفوں میں بھرتی ہونے والے نصف جنگجوئوں کا تعلق مغربی ملکوں سے ہے۔ یہ لوگ سیاسی اسلام کے فلسفے سے متاثر ہیں۔ یہ ایک خطرناک رحجان اور اسلام کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رابطہ عالم اسلامی کا مقصد دنیا کے سامنے اسلام کا صل چہرہ پیش کرنا اور گمراہ عناصر کے پرروپیگنڈے کی روک تھام کرنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے رابطہ عالم اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انتہا پسند اور دہشت گردی کی ایک قسم ہمیں یمن میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ لوگ جنگ کو اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان جنگ قراردیتےہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ سیاسی اسلام کے پرچارک اخوان المسلمون کو مسلم دنیا کے بجائے مغرب سے زیادہ حمایت ملتی ہے۔ مذہبی اقلیتوں سے متعلق تعلیمات سمیت کئی دوسرے امور میں اخوان المسلمون غلط راستے پر چل رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے کہ اسلام بین المذاہب مکالمے کی دعوت دیتا اور مشترکات پر اکھٹا ہونے کی بات کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 فی صد مشترکات عالمی امن کےقیام کے لیے کافی ہیں۔ مشترکات پر اکٹھا ہوئے بغیر بقائے باہمی کا تصور ممکن نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں