.

آبائی شہر میں قاسم سلیمانی کا مجسّمہ ایرانی عوامی حلقوں کی شدید تنقید کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے مجسمے کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کے غم و غصے سے بھرے تبصرے سامنے آئے ہیں۔ یہ مجسمہ چند روز قبل ایران کے صوبے کرمان میں سلیمانی کے آبائی شہر جیرُفت میں نصب کیا گیا تھا۔

سلیمانی رواں سال جنوری کے آغاز پر بغداد کے ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے میں اپنے چند ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا تھا۔ مارے جانے والوں میں عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کا اہم رہ نما ابو مہدی المہندس شامل تھا۔

متعدد ویب سائٹس جن میں "فردا ریڈیو" اور "بی بی سی فارسی" شامل ہیں ، ان کے مطابق سلیمانی کے مجسمے کی خراب کوالٹی نے وسیع پیمانے پر تنقید کا دروازہ کھول دیا۔ بعض لوگوں نے اپنے تبصرے میں استفسار کیا کہ "اس شخص نے ہمارے مال سے بیرون ملک ملیشیاؤں کی جیبیں بھرنے کے علاوہ ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا کہ اس کا مجسمہ نصب کیا جائے؟".

دوسری جانب جیرفت شہر کے میئر نعمت اللہ حسین زادہ نے مذکورہ عوامی تنقیدوں کے جواب میں کہا کہ "ذمے دار ٹھیکے دار کو مجسمے میں موجود خامیوں سے آگاہ کر دیا گیا ہے تا کہ جلد ہی ان کی درستی ہو جائے"۔ تاہم میئر نے مجسمہ تیار کرنے والی کمپنی کا نام نہیں بتایا۔

اس سے قبل ایران کے شمال میں ساحلی شہر بندر انزلی میں بھی قاسم سلیمانی کے ایک دوسرے مجسمے پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں