مصر اور یونان کا معاہدہ جنگل راج کے خلاف قانون کی فتح ہے : قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے سمندری حدود کے تعین کے حوالے سے یونان اور مصر کے درمیان دستخط ہونے والے سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔
جمعے کے روز اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر کی جانے والی ٹویٹ میں قرقاش نے کہا کہ "مصر اور یونان کے درمیان سمندری حدود کے تعین کے سمجھوتے پر دستخط ،،، بین الاقوامی قانون کی جنگل راج پر فتح ہے"۔
توقيع اتفاقية ترسيم الحدود البحرية بين مصر واليونان انتصار للقانون الدولي على قانون الغاب. النظام القانوني الدولي هو الأساس الراسخ الذي يدير العلاقات بين الدول ويحفظ الأمن والسلام، ولا يجوز للأمم المتحضرة أن تشرعن التغوّل السياسي على حساب الأسس التي تحكم العلاقات الدولية.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) August 7, 2020
اماراتی وزیر نے مزید کہا کہ "بین الاقوامی قانونی نظام ہی وہ راسخ حقیقت ہے جو ممالک کے درمیان تعلقات چلاتا ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھتا ہے۔ تہذیب یافتہ اقوام کے لیے روا نہیں کہ وہ بین الاقوامی تعلقات کو کنٹرول کرنے والی بنیادوں کے کھاتے میں سیاسی مداخلت کو قانونی حیثیت دیں"۔ قرقاش کا اشارہ گذشتہ سال نومبر میں ترکی اور لیبیا میں وفاق حکومت کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدے کی جانب تھا۔ اس معاہدے نے یورپی اور عرب ممالک کی جانب سے شدید تنقید کا دروازہ کھول دیا کیوں کہ مذکورہ سمجھوتا بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
مصر اور یونان نے گذشتہ روز جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایک باہمی سمندری سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ مصری وزیر خارجہ سامح شکری کا کہنا تھا کہ سمجھوتے میں بحیرہ روم میں دونوں ممالک کے بیچ اقتصادی زون کا تعین شامل ہے۔ اس علاقے میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
یونانی سفارت کاروں کے نزدیک اس معاہدے نے ترکی اور لیبیا کی وفاق حکومت کے بیچ طے پانے والے سمجھوتے کو عملی طور پر ناکارہ بنا دیا ہے۔ معاہدے پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور طرابلس میں لیبیا کی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج نے دستخط کیے تھے۔
مصری وزارت خارجہ نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو یونان اور مصر کے درمیان سمندری حدود کے مجوزہ نقشے کی کاپی ارسال کی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ ترکی اور لیبیا کے درمیان رابطے کا کوئی امکان باقی نہیں چھوڑا گیا۔