.

یمن: حوثیوں نے 90 اسکولوں کو جیلوں اور حراستی مراکز میں بدل ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں ہر عمر کے شہریوں ، خوانچہ فروشوں ، اساتذہ اور صحافیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلا ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے میں یمنی اساتذہ انجمن کے میڈیا ذمے دار یحیی الیناعی نے تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا نے یمن میں 90 تعلیمی اداروں کو حراستی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ الیناعی نے واضح کیا کہ اس حوالے سے سرفہرست ذمار اور تعز صوبے ہیں جہاں حوثیوں نے 10،10 اسکولوں کو جیلوں میں بدل ڈالا۔

دارالحکومت صنعاء کی میونسپلٹی 9 اسکولوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد یمنی صوبوں کی تریب کچھ اس طرح ہے: الجوف 8 ادارے، صعدہ 7 ادارے، عمران 6 ادارے، اِب 6 ادارے، البیضاء 5 ادارے اور حجہ 5 ادارے۔ علاوہ ازیں الحدیدہ ، المحویت اور الضالع میں ہر صوبے میں 4 اسکولوں کو حراستی مراکز میں تبدیل کیا گیا۔

یحیی الیناعی کے مطابق مسلح حوثی جماعت کی یہ کارستانی سلامتی کونسل کی قرار داد کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔ اس قرار داد میں تنازع کے فریقوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسکولوں پر قبضہ نہیں کیا جائے گا اور انہیں عسکری کارروائیوں میں استعمال ہر گز نہیں کیا جائے گا۔ الیناعی نے باور کرایا کہ اسکولوں پر حملہ اور ان پر قبضہ کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے۔

اساتذہ انجمن کے میڈیا ذمے دار نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں اسکولوں کے تحفظ اور مسلح ملیشیاؤں کی اسکولوں سے بے دخلی کو یقینی بنانے کے لیے اس حوالے سے متعین کردہ طریقہ کار پر عمل درامد کرائے۔