بیروت : بندرگاہ پر تباہ کن دھماکے کے ایک ماہ بعد دوبارہ آگ لگ گئی
لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر جمعرات کو آگ لگ گئی ہے جس کے بعد سیاہ دھویں کے بادل آسمان کی جانب بلند ہورہے ہیں۔بندرگاہ پر امونیم نائٹریٹ کے گودام میں تباہ کن دھماکے کے ایک ماہ اور چھے روز کے بعد یہ آگ لگی ہے۔
لبنان کے ایک عسکری ذریعے کے مطابق ٹائروں اور تیل کے ایک گودام میں آگ لگی ہے۔تاہم بندرگاہ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ آگ کے سبب کے بارے میں فوری طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
لبنان کی انجمن ہلال احمر نے آتش زدگی کے اس واقعے میں لوگوں کے زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات کی تردید کی ہے۔ البتہ اس کا کہنا ہے کہ بعض لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔
بیروت کے مکینوں نے سوشل میڈیا پر بندرگاہ پر لگی آگ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی ہیں۔آگ بجھانے والا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ چکا ہے اور وہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
A fire at #Beirut port sends up a large column of black smoke into the sky over the Lebanese capital a little more than a month since a massive blast devastated the port facilities and surrounding area.https://t.co/SpbNrUfVw9 pic.twitter.com/C4axr0cZhd
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) September 10, 2020
لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں کو بھی آگ پر قابو پانے کی امدادی سرگرمی میں حصہ لینے کے لیے بھیجا جارہا ہے۔مقامی ٹیلی ویژن نے ایک ہیلی کاپٹر کے بندرگاہ کی فضا میں پرواز کرتے ہوئے فوٹیج نشر کی ہے۔
واضح رہے کہ بیروت میں چار اگست کو تباہ کن دھماکے سے بندرگاہ کو شدید نقصان پہنچا تھا اور وہ استعمال کے قابل نہیں رہی ہے۔اس دھماکے کے نتیجے میں 190 افراد ہلاک اور چھے ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔بیروت کے گورنرمروان عبود کے مطابق اس واقعے میں ہزاروں عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں اور کم سے کم تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔