.

سعودی عرب اور امریکا کی فضائیہ کی مشترکہ فوجی مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے جمعرات کے روز ایک بیان میں بتایا کہ مملکت نے امریکا کے ساتھ مل کر فضائی مشقیں شروع کی ہیں۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے 'ٹویٹر' پر اپنے جنگی طیاروں'بی 52' کی خلیجی فضائوں میں‌ تربیتی پروازوں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور سعودی عرب کی فضائی افواج کی مشترکہ مشقیں ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں‌جب دوسری طرف حال ہی میں کثیر ملکی مشقیں اپنے اختتام کو پہنچی ہیں۔ سعودی عرب، امریکا اور برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک کی افواج پرمشتمل 'ڈیفنڈر 21' بحری مشقوں کا آغاز سعودی عرب کے مشرقی علاقے الجبیل میں قائم شاہ عبدالعزیزبحری اڈے میں گذشتہ ہفتے ہو۔

مشترکہ مشقوں‌ کا آغاز سعودی نیول فوج کے کمانڈر میجر جنرل ماجد بن ہزاع القحطانی کی موجودگی میں ہوا۔ مشقوں میں امریکی بحریہ کے دستوں کے ساتھ ساتھ برطانوی مائن سویپر اور سعودی عرب کی رائل بحری فوج نے حصہ لیا۔ ان مشقوں کا مقصد بحری سلامتی کو مستحکم کرنا ، علاقائی پانیوں کے تحفظ کو محفوظ بنانا اور جنگی تجربات کا تبادلہ کرکے اتحادی ممالک بالخصوص مشقوں میں شریک ملکوں‌کے مابین جنگی تیاریوں اور نیول سیکیورٹی کے تعاون کو فروغ دینا ہے۔

مشقوں کے ڈائریکٹربریگیڈیئر جنرل عواد بن راشد العنزی نے وضاحت کی کہ "نیول ڈیفنڈر" مشقوں کا مقصد سمندری تحفظ کوفروغ دینا، علاقائی پانیوں ، ساحلوں اور بندرگاہوں کی حفاظت کرنا ، فوجی تعاون میں اضافہ کرنا ہے اور رائل سعودی بحری افواج اور امریکی اور برطانوی بحری افواج کے مابین جنگی تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔