شہزادی ہیفاء آل مقرن یونیسکو کے پروگرام اور خارجہ تعلقات کمیشن کی سربراہ منتخب
اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم برائے تعلیم ، سائنس اور ثقافت "یونیسکو" میں سعودی عرب کی مستقل خاتون مندوب شہزادی ہیفاء بنت عبدالعزيز بن محمد بن عياف آل مقرن کو 2021ء سے 2023ء تک کے لیے یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ پروگرام اور خارجہ تعلقات کمیشن کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔
یہ انتخاب جمعے کے روز یونیسکو کی ایگزیکٹو کونسل کے 213 ویں اجلاس میں عمل میں آیا۔ اجلاس کا انعقاد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں ہوا۔
ادھر سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق شہزادی ہیفاء نے اپنی تازہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ "میں ایگزیکٹو کونسل کی جانب سے سعودی عرب کو کونسل کے پروگرام اور خارجہ تعلقات کمیشن کا سربراہ منتخب کرنے پر بے حد مسرور ہوں۔ سعودی عرب سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا"۔
سررت بانتخاب المجلس التنفيذي @UNESCOarabic المملكة العربية السعودية، رئيساً للجنة البرامج والعلاقات الدولية للمجلس، حيث تستمر المملكة بتحقيق مساعيها وجهودها لضمان مستقبل أفضل للجميع 🇸🇦 https://t.co/AKhGsh0Igq
— Haifa Al Mogrin هيفاء آل مقرن (@HaifaAlMogrin) November 26, 2021
شہزادی ہیفاء آل مقرن نے 2000ء میں کنگ سعود یونیورسٹی سے اکنامکس میں گریجویشن کیا۔ اس کے بعد 2007ء میں لندن میں The School of Oriental & African Studies سے اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
وہ مملکت اور بین الاقوامی سطح پر متعدد منصبوں پر کام کر چکی ہیں۔
شہزادی ہیفاء کو 14 جنوری 2020ء کو اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو میں سعودی عرب کی مستقل مندوب کے طور پر مقرر کیا گیا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 6 اپریل 2021ء کو شہزادی ہیفاء کو کنگ عبدالعزیز ایوارڈ (ممتاز درجے میں) سے نوازا۔
-
سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کی نصف درجن سے زاید کارروائیاں ناکام
سعودی محکمہ زکوۃ، ٹیکس وکسٹم نے بڑی مقدار میں منشیات اسمگل کرنے کی 7 کارروائیوں ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب میں یکم دسمبرسے انڈونیشیا،پاکستان،مصر، بھارت سے براہِ راست داخلے کی اجازت
سعودی عرب نے یکم دسمبر سے انڈونیشیا، پاکستان، برازیل، ویت نام، مصر اور بھارت سے ...
بين الاقوامى -
سر سے جڑی مصری بچیاں سعودی عرب میں آپریشن کے لیے تیار
سارہ اور سلمیٰ عبدالغنی نے اپنی زندگی کے پہلے دو سال ایسی حالت میں گذارے کہ وہ ...
مشرق وسطی