سعودی وزارت حج نے مملکت کے اندرونی حجاج کرام کے نظام کے واسطے ایک نئے منصوبے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ یہ مسودہ 23 شقوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد حجاج کرام کو پیش کردہ خدمات کی از سر نو تنظیم اور ان خدمات کو مزید ترقی دینا ہے تا کہ اللہ کے مہمانان اس مقدس فریضے کو پوری آسانی کے ساتھ انجام دے سکیں۔ مزید یہ کہ اندرون ملک حجاج کی خدمت کے میدان میں سرگرم کارکنان کی اہلیت کی سطح کو بلند کیا جائے گا۔
سعودی عرب کے عربی روزنامے "عکاظ" کے مطابق نئے منصوبے کے تحت حج سے متعلقہ سرگرمیاں انجام دینے کے واسطے وزارت حج سے لائسنس کا حصول ضروری ہو گا۔ لائسنس یافتہ فریقوں کو اس بات کی اجازت ہو گی کہ وہ مشترکہ طور پر مطلوبہ خدمات انجام دیں۔ البتہ اس دوران میں وزارت کی جانب سے وضع کردہ معیار اور قواعد و ضوابط کا پورا خیال رکھنا لازم ہو گا۔ لائسنس کی مدت متعین ہو گی اور خدمات پیش کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کی درجہ بندی کی جائے گی۔
نئے منصوبے کے تحت خدمات پیش کرنے والوں کے لیے اس بات کی ممانعت ہو گی کہ وہ بیرون مملکت حج کے خواہش مند افراد کے ساتھ سمجھوتا کریں یا وزارت حج کی منظوری کے بغیر انہیں خدمات پیش کریں یا پھر حاصل شدہ لائسنس میں متعین اختیارات سے تجاوز کریں یا اسے فروخت کریں یا اسے کرائے پر دیں یا خفیہ طور اس سے دست بردار ہو جائیں۔ ان تمام امور کے لیے وزارت حج کی جانب سے منظوری لینا لازم ہو گا۔
نئے منصوبے کے تحت قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر ایک یا ایک سے زیادہ سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ان میں 5 لاکھ ریال تک کا مالی جرمانہ ، ایک سیزن یا اس سے زیادہ کے لیے اندرون مملکت کے حجاج کرام کو خدمات پیش کرنے سے روک دیا جانا یا پھر لائسنس کا منسوخ کر دیا جانا شامل ہے۔
-
سعودی عرب.. "درعیہ" 2030 کے لیے عرب ثقافت کا دارالحکومت قرار
عرب تنظیم برائے تعلیم ثقافت اور سائنس "الیسکو" نے سال 2030 کے لیے سعودی عرب کے ...
مشرق وسطی -
سعودی شاہ عبدالعزیز لایبریری کے زیراہتمام نایاب سکوں کی نمائش
سعودی عرب میں شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے زیراہتمام قدیم دور کے نایاب اور منفرد ...
مشرق وسطی -
جدہ سینٹرل منصوبہ سعودی معیشت اور سیاحت کے لیے نیا سنگ میل ہو گا
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کل جمعے کے روز "وسط جدہ" (Jeddah Central) کے ...
مشرق وسطی