سعودی عرب: تیما سے ثمودی دور کا نوشتہ دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قوم ثمود کی تحریروں کے سعودی محقق مرضی جلباخ الفھیقی نے کہا کہ اُنہیں تیما کے جنوب مغرب میں ایک چٹان ملی ہے جس میں ثمودی دور کی تحریریں ملی ہیں۔ یہ نقوش "النصلہ" کی چٹان سے ملتی جلتی ہیں جو جزیرہ نما عرب کے ارضیاتی عجائبات میں سے ایک ہے۔ سرکاری سطح پر ان نوشتہ جات کو غیرمعمولی اہمیت دی جاتی ہے اور یہ سعودی عرب میں آثار قدیمہ کے فوائد اور تہذیب کی تاریخی گہرائی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ چٹان نایاب ثمودی تحریروں کی کثرت کے لحاظ سے مشہور "النصلہ" چٹان سے ملتی جلتی ہے۔ نیز ان کے درمیان بہت ہی معمولی انشقاق کے فرق کے ساتھ شگاف کا طریقہ نوشتہ جات اور راک ڈرائنگ کے ایک مربوط میوزیم کی نمائندگی کرتے ہیں جو قدیم ثمودی زبان کا اظہار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ثمودی دور کی تحریروں پر عوامی کردار کا غلبہ نظرآتا ہے۔ خواہ وہ نوشتہ جات ہوں یا خاکے ان میں ثمودی دور کی عوامی جھلک نظرآتی ہے۔ ان کو پڑھنے میں درپیش مشکلات ان تاثرات، احساسات اور رجحانات کی بدولت یہ انسانی حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان میں حروف کی شکلیں، الفاظ اور تحریری سمت کا فرق بھی موجود ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ آثار قدیمہ کی چٹان پر نوشتہ جات کے مالک کے دستخط شدہ نوشتہ جات ہیں۔ ترجمے کا عمل تین مراحل سے گزرتا ہے جو خط کی منتقلی، معنی کی منتقلی اور تجزیہ پر مشتمل ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ثمودی نوشتہ جات" کو جزائرکے نوشتہ جات کی ایک جامع اور عمدہ قسم سمجھا جاتا ہے۔ یہ مسند رسم الخط میں لکھے گئے ہیں۔ کچھ حروف کی شکل اور روایتی مسند رسم الخط سے مختلف ہوتے ہیں۔ جزیرہ نما عرب میں کئی قدیم جنوبی عربی بولیاں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ثمود کے نوشتہ جات 2,600 سال سے زیادہ پرانے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں