میڈیا رپورٹوں کے مطابق بحر احمر پر پھیلی اسرائیل کی "ایلات بندر گاہ" حوثی ملیشیا کی جانب سے ڈرون طیاروں کا آئندہ ہدف ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے ایک اسرائیلی اخبار کی ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی جنگ کی صورت میں ایران اسرائیلی اہداف کے ایک مجموعے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان میں جوہری اور تزویراتی تنصیبات سرفہرست ہیں۔
عبرانی زبان کے اسرائیلی اخبار "ہآرٹز" کے مطابق گذشتہ ہفتے ابوظبی میں تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد حوثی ملیشیا کا دوسرا ہدف "ایلات" ہو سکتا ہے۔ مشرق وسطی میں ایران کے ایجنٹوں کے ذریعے اس نوعیت کے حملے تہران کی جانب سے یہ پیغام ہے کہ وہ اپنی کارستانیوں سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔
گذشتہ پیر کے روز امارات میں تنصیبات پر حوثیوں کے حملے کے بعد عرب دنیا اور عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر مذمت سامنے آئی تھی۔ ساتھ ہی ابوظبی نے باور کرایا تھا کہ اس حرکت پر حوثیوں کو بخشا نہیں جائے گا۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب اسرائیل نے ایران کا علاج کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے ملک پر یہ ذمے داری ہے کہ وہ ایرانی نظام کو نمایاں صورت میں ضرر پہنچائے۔
-
حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے پابند ہیں: بلینکن
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی ہم منصب انٹنی بلینکن سے ٹیلیفونک ...
مشرق وسطی -
یو این سلامتی کونسل کی یو اے ای پر حوثیوں کے ’وحشیانہ دہشت گرد حملوں‘ کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ابوظبی ...
بين الاقوامى -
یمنی حوثیوں کی خمیس مشیط کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش ناکام
یمن کی آئینی حکومت کی رٹ بحالی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں سرگرم عرب اتحاد نے ...
بين الاقوامى