ہیکروں نے ایرانی ٹی وی چینل ہیک کر کے مخالفین کی تصاویر نشر کر ڈالیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن (IRNA) نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ کارپوریشن کو کل جمعرات کو 10 سیکنڈ کے ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

"10 سیکنڈ کی مدت کے اندر منافقین کے چہرے اور آوازیں ریاستی نشریاتی ادارے کے چینل ون پر دیکھی اور سنی گئیں۔ کارپوریشن کے مطابق اس نوعیت کی ہیکنگ بیرون ملک حزب اختلاف کے مجاہدینِ خلق گروپ کی طرف سے کی جاتی ہے۔

عوامی مجاہدین گروپ کے رہ نماؤں کی تصویر کے علاوہ ایران کے سرکاری چینلز نے ایک کارٹون نشر کیا جس میں ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا مطالبہ کیا گیا۔

دو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک اکاؤنٹ کا نام بھی سامنے آیا جس میں مبینہ طور پر ہیکرز کے گروپ سے اپنے تعلق کا دعویٰ کیا۔

یہ واقعہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی سنگین غلطیوں اور اس کے سیکیورٹی سسٹم میں نقائص کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بارے میں طویل عرصے سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایران کی انٹیلی جنس شاخوں بالخصوص پاسداران انقلاب کے ارکان کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔ ایسا واقعہ برسوں میں نہیں ہوا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کا ہیڈ کواٹر
ایرانی سرکاری ٹی وی کا ہیڈ کواٹر

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ ہیکنگ کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

اس واقعے کے ایک کلپ میں مجاہدینِ خلق تحریک کے دو رہ نماؤں مسعود رجوی اور ان کی اہلیہ مریم رجوی کے چہرے دکھائے گئے تھے۔ جو دوپہر تین بجے نشر ہونے والے چینل کے باقاعدہ نیوز پروگرام میں اچانک نصب کیے گئے تھے۔ ایک آدمی کی آواز سنائی دے رہی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ رجوی کو سلام، اور خامنہ ای (سپریم لیڈر) مردہ باد۔

مسعود رجوی تقریباً دو دہائیوں سے عوام کے سامنے نہیں آئے اور غالباً ان کی موت ہو چکی ہے۔ مریم رجوی اس وقت عوامی مجاہدین تحریک چلا رہی ہیں۔

ایران کو پہلے بھی سائبر خلاف ورزیوں کی ایک سیریز کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں گذشتہ اکتوبر میں ریاستی حمایت یافتہ پٹرول کی فروخت میں خلل ڈالنے والی ایک کوشش بھی شامل تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں