سعودی عرب کے فہد الطلیسی الباحہ صوبے کی تاریخ اور ورثے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ وہ بچپن سے ہی اس سلسلے میں تاریخی کتابوں اکٹھا کرتے رہے۔ وہ "حدیقة الحجاز" کے خطاب سے معروف اپنے شہر (باحہ) کے ورثے اور تاریخ کی تدوین کے واسطے انفرادی کوشش کے طور پر نادر مخطوطات کی تحقیق کرتے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے الطلیسی نے باور کرایا کہ وہ علاقے کے بازاروں اور بعض جغرافیائی یادگاروں سے متعلق اپنی تحقیق اور مقالات کو شائع کرانے کے خواہش مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "میں قدیم مخطوطات کو بحال کر کے دوبارہ سے تحریر کرتا ہوں اور اسے شائع کرتا ہوں ،،، میرے پاس قدیم انساب اور اشعار کے بعض مسودے ہیں جن کی میں نے تدوین کی۔ اسی طرح الباحہ کے بعض علاقوں کے قدیم نقوش پر کام کیا ہے۔ ان میں بعض دستاویزات اور مخطوطوں کی تاریخ 300 برس پرانی ہے"۔
الطلیسی کے مطابق الباحہ صوبہ لہجوں ، فنون ، زرعی اور حیوانی مصنوعات اور زمینی پودوں سے مالا مال ہے۔ اس کے وسط میں پہاڑ ، میدان اور وادیاں ہیں۔ اس صوبے میں دو قبیلے غامد اور زہران رہتے ہیں۔ یہ جزیرہ عرب کے قدیم ترین قبیلوں میں سے ہیں"۔
الطلیسی نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ الباحہ کے لوک فنون میں "اللعب" ، "المسحبانی" ، "السامر" ، "القاف" ، "طرق الجبل" ، "الهرموج" ، "الزار" اور "اللبينی" شامل ہیں۔ مزید یہ کہ الباحہ میں سعودی عرب کے مقبول رقص 'العرضہ' کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس رقص میں عسکری مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ رقص کرنے والے عسکری لباس زیب تن کر کے تلواروں یا بندوقوں کے ساتھ رقص کرتے ہیں۔ یہ ایک وسیع جگہ پر کیا جاتا ہے۔
لباس کے حوالے سے الطلیسی نے بتایا کہ یہ الباحہ صوبے کے رہنے والوں تک محدود نہیں ہے۔ اس میں لوک فنون کی طرح بعض قبائل مشترکہ رجحان رکھتے ہیں۔
الطلیسی کے مطابق قدرتی اون سے تیار کیا گیا الباحہ کا جبّہ امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی تیاری میں کئی ماہ لگتے تھے۔ یہ بھاری قیمت میں فروخت ہوتا ہے۔