ویانا میں طویل مذاکرات کے بعد طے پانے والے ممکنہ حتمی معاہدے کے مسودے کے بارے میں معلومات اِفشا ہونے پر ایران کا رد عمل سامنے آ گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے جمعرات کی شام اپنی ٹویٹ میں ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے زیر گردش معلومات کو "گمراہ کن" قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹوں کی صورت میں یہ معلومات خطرناک ہے۔ ان کا اشارہ روئٹرز نیوز ایجسنی کی جانب سے جاری رپورٹ کی طرف تھا۔ رپورٹ میں متعدد سفارت کاروں کی تصدیق کا حوالہ دیا گیا تھا۔
خطیب زادہ کے مطابق جوہری معاہدے کی حقیقت ان من گھڑت کہانیوں سے بہت دور ہے جو بنا ذرائع کے گردش میں آ رہی ہیں۔
ادھر ویانا میں روسی مندوب میخائل اولیانوف کا کہنا ہے کہ مذکورہ اِفشا معلومات کا مقصد بات چیت کے آخری اور حساس مرحلے پر گڑبڑ پیدا کرنا ہے۔ اپنی ایک ٹویٹ میں اولیانوف کا کہنا ہے کہ "ہمارے معاہدے کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی اس کے مخالفین نا خوش گوار فضا پیدا کرنے کے لیے زیادہ سرگرم اور فعال ہو گئے ہیں"۔
As we are getting closer to an agreement on restoration of #JCPOA, the opponents of the nuclear deal are becoming more and more proactive in the public space trying to create unhealthy atmosphere around final stage of the #ViennaTalks.
— Mikhail Ulyanov (@Amb_Ulyanov) February 17, 2022
اس سے قبل کئی سفارت کاروں اور ایک ایرانی ذمے دار نے باور کرایا تھا کہ ویانا میں مذاکرات کار معاہدے کے مسودے تک پہنچ گئے ہیں جو 20 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے متن میں اقدامات کا ایک مجموعہ وضع کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا آغاز ایران کی جانب سے یورینیم کی 5% سے زیادہ تناسب سے افزودگی روک دینے سے ہو گا۔ علاوہ ازیں متن کے مطابق امریکی پابندیوں کے سبب جنوبی کوریا کے بینکوں میں منجمد ایران کی تقریبا 7 ارب ڈالر کی رقم آزاد کی جائے گی۔ مزید یہ کہ ایران میں زیر حراست مغربی قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں آئے گی۔
تاہم بات چیت سے مطلع سفارت کاروں نے ساتھ ہی اشارہ دیا ہے کہ بعض معلق نکات بھی موجود ہیں۔
معاہدے سے متعلق یہ معلومات ایسے وقت میں افشا ہوئی ہیں جب امریکا ، ایران اور مذاکرات کی میز پر موجود مغربی ممالک بات چیت کے حتمی مرحلے کے قریب پہنچنے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ویانا بات چیت کا آغاز گذشتہ برس اپریل میں ہوا تھا۔