’قدرتی حسن کی جو فراوانی سعودی عرب میں دیکھی وہ اور کہیں نہیں‘

مملکت کے سیاحتی دورے کرنے والے عمانی فوٹو گرافر کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سلطنت عمان کے ایک پیشہ ور فوٹوگرافر ہیثم الشنفری نے سعودی عرب میں فطرت کی خوبصورتی کا تہہ دل سے اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کئی بار سعودی عرب کا سفر کیا اور اپنے ہر سفر میں وہ بلند و بالا پہاڑوں، میدانوں، چٹانوں اور بلندیوں کے مناظر کی عکس بندی کرتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو قدرتی حسن اور اس کی فروانی سعودی عرب کی سرزمین پر دیکھی اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ میں نے فوٹو گرافی 5 مرتبہ سعودی عرب کا سفر کیا۔ اس دوران انہوں نے دمام کا دورہ کیا اور پرندوں کی تصویریں کھینچ کر ان کی خوبصورتی کو دستاویزی شکل دی۔ اس سفر میں ان کے ساتھ فیصل الھجول بھی تھے۔ انہوں نے مملکت میں اُلّو کی تصویر کشی کے لیے خصوصی سفر کیا اور اس کی تصویر کشی کی گئی۔

تیسرے دورے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک کے فوٹوگرافروں کو شہزادہ سلطان بن سلمان کی جانب سے مدعو کیا گیا تھا۔ عمان سے اس دعوت میں ان کا انتخاب کیا گیا۔اس سفر میں الشنفری نے سعودی عرب میں بارش اور سیلاب کی عکس بندی کی تھی۔ تصاویر کے لیے ڈرون کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران انہوں زلفی شہر اور اس کے قریب جھیلوں کی تصویریں بنائی گئیں۔ان جھیلوں کی تصویر سامنے آنےپر وہ حیران رہے کیونکہ یہ تصویرگنتی کے7 کے عدد سے کافی حد تک مماثلت رکھتی تھی۔

انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ سلطنت عمان کا سعودی عرب سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سعودی عرب کا رقبہ بڑا ہے اور اس کی خوبصورتی الگ ہے۔ اس میں موجود سائٹس جو اس عظیم ملک کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ عمان خاص طور پر ربع الخالی صحرا میں جو چیز سب سے منفرد اور ممتاز ہے، وہ "نجمیہ" پہاڑیوں کی موجودگی ہے جو صرف ظا فر گورنری میں سلطنت کے حجمان علاقے میں پائی جاتی ہیں۔

ریاض ایئرپورٹ پر الو

ہیثم الشنفری نے کلرز آف سعودی مقابلے میں حصہ لیا اور اسے "سعودی عرب ود انٹرنیشنل آئیز" کے محور میں جیتا. اس نے الو کی تصویر کے ساتھ پانچواں مقام حاصل کیا اور یہ تصویر ریاض ایئرپورٹ پرموجود ایک الو کی لی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سعودی عرب میں مکہ کے قریب بہت سے علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ جتنے بھی مقامات کا دورہ کیا ہے ان کے وزٹ کے لیے گوگل میپ سے مدد لی گئی تھی۔ اس کے بعد سعودی عرب کے بہت سے علاقوں کا دورہ کرنا چاہتا ہوں۔ان میں جھیلیں اور آتش فشاں پہاڑ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں