سعودی عرب اور اردنی افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں "سحاب 4" کل بدھ کو مملکت کے شمال مغربی علاقے میں اختتام پذیر ہو گئی۔ ان میں سعودی مسلح افواج کی تمام شاخوں، سعودی رائل گارڈ کے صدر دفتر، جنرل ڈائریکٹوریٹ، سول ڈیفنس اور سعودی ریڈ کریسنٹ اتھارٹی نے شمال مغربی علاقے کے کمانڈر میجر جنرل اسٹاف حسین بن سعید القحطانی کی موجودگی میں شرکت کی۔
مشقوں کے ڈائریکٹربریگیڈیئر جنرل مقبل بن محمد الحربی نے کہا کہ مشقوں نے اپنے تمام مقررہ اہداف حاصل کر لیے۔
#فيديو_الدفاع
— وزارة الدفاع 🇸🇦 (@modgovksa) March 23, 2022
اختتام مناورات التمرين المشترك #سحاب_4 بين #القوات_المسلحة_السعودية والأردنية لمواجهة أسلحة التدمير الشامل. pic.twitter.com/ydDZP8Iou8
شرکاء کو جاسوسی آپریشنز (نپون کیمیکل)، آلودہ علاقوں کے لیے مارکنگ آپریشنز، نمونے لینے کے طریقہ کار اور رپورٹیں لکھنے (نپون کیمیکل) کی تربیت دی گئی۔ اس کے علاوہ زخمیوں کو چھانٹنے اور نکالنے کے لیے، مفروضوں کی مشق کی گئی۔ گنجان آباد علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف دفاع کے طریقوں کی مشقیں کی گئیں۔
اس موقعے پر مشقوں کے اردن کی طرف سے ڈائریکٹر کرنل خالد محمود شمائلہ نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہمارا فراخدلانہ مہمان نوازی اور گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ میں اس پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مشق دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ تصورات کے اتحاد، تجربات کے تبادلے اور تربیتی مہارتوں کے حصول کا باعث بنی۔
تقریب کے دوران بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے نمٹنے کے حوالے سے مرکزی پریڈ کی کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ یہ پروگرام مشق کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل انجینیر ملفی بن سعید آل زاہر نے پیش کیا۔
شمال مغربی ریجن کے کمانڈر میجر جنرل حسین القحطانی نے خطاب کرتے ہوئے مشقوں میں حصہ لینے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کنا تھا کہ یہ مشقیں تعاون کو مضبوط بنانے، تجربات کے تبادلے اور تربیت کی سطح کو بڑھانے، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف دفاع، چاہے کیمیائی ہو، حیاتیاتی ہو یا جوہری ہوں کی روک تھام کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ "سحاب 4" مشقیں دو ہفتوں تک جاری رہی۔ ان میں کیمیکل فٹ اور مکینیکل جاسوسی، نمونے جمع کرنے کا طریقہ کار، طبی انخلاء ، ڈس انفیکشن اور زخمیوں کو نکالنے، دہشت گرد کی جاسوسی کی کارروائیوں سے نمٹنا بھی شامل تھا۔ مشقوں میں دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے دستوں کو خطرناک کیمیائی اور حیاتیاتی مواد تیار کرکے اور بیلسٹک میزائلوں سے نمٹنے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔