سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی دوشیزہ ماہا الصھیل خود کو "کروشیے کا عاشق" کہلانا پسند کرتی ہیں۔ وہ بچپن سے ہی اس ہنر سے منسلک ہیں اور 30 سال کے دوران انہوں نے خود تعلیم کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا یہاں تک کہ اس کی مصنوعات کی تعریف کرتے ہوئے توجہ دی جانے لگی۔
سب سے پہلے ماہا تمام دستکاری کو آزمانا چاہتی تھی۔ یہاں تک کہ اسے وہ چیز مل جسے وہ کروشیے کے فن میں شامل کرنا چاہتی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کروشیے کے فن مین اس کی دلچسپی میں اس کی دادی مرحومہ کا اہم کردار ہے۔ اس کی دادی اماں نے قدم قدم پر اس کی حوصلہ افزائی کی، جس کی وجہ سے اسے اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کا پتہ چلا۔ یہاں تک کہ دادی نے اپنی پوتی کو بُنائی کی ضروریات فراہم کیں۔ تاکہ بچی اس میدان میں کوئی کمال صل کرے۔
ماہا نے دستکاری کی سب سے اہم ضروریات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کا کہ آرٹ کے خوبصورت نمونے تیار کرنے کے لیے تمام اقسام اور سلائیوں کے استعمال میں مہارت حاصل کرنے کے علاوہ ہک کی قسم اور مناسب دھاگے کا صحیح انتخاب ضروری ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کروشیے کا مواد اون، کپاس اور ریشم کے درمیان مختلف ہوتا ہے۔
اپنی سب سے نمایاں مصنوعات کے بارے میں جسے لوگوں نے پسند کیا مہا نے کہا کہ نجد کی ٹوپی کو کافی مثبت ردعمل ملا۔ ابتدا میں میں نے اسے ڈیزائن کیا اور اپنے شوہر، بیٹوں اور اپنے قریبی لوگوں کو تحفے میں دیا۔ انہوں نے اسے پسند کیا جس سے مجھے مزید ڈیزائن اور نقاشی بنانے کا حوصلہ ملا۔
پروڈکشنز سے بھرے ایک طویل سفر کے بعد جو شالوں، بیڈ اسپریڈز، ٹی سیٹ اور گڑیاؤں پر مشتمل ہے ماہا نے اس تجربے کو کورسز اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ جہاں وہ اپنے ایک اکاؤنٹ پر اپنے کروشیے کرافٹ کی لائیو ویڈیوز نشر کرتی۔
اس تناظر میں اس نے نشاندہی کی کہ ورچوئل دنیا ایک "کھڑکی" ہے جو اسے روزانہ کے اسباق اور تعلیمی ورکشاپس میں ہاتھ سے بنے فن کو اجاگر کرنے اور پھیلانے کے لیے معاشرے میں لاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ اپنے پیروکاروں اور طالب علموں کو کہتی ہوں کہ کروشیہ تخلیقی صلاحیتوں اور تنوع کا ایک لازوال سمندر ہے اور اس کے چاہنے والوں کو اس میں غوطہ لگا کر انتخاب کرنا چاہیے کہ ان کے لیے کیا مناسب ہے۔یہ کام خوشی اور مثبت توانائی کی نمائندگی کرتا ہے۔