العربیہ خصوصی رپورٹ

حزب اللہ کے ہتھیار اور معاشی مشکلات لبنان کے نئے اراکین پارلیمان کے لیے چیلنجز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنان میں 17 اکتوبر کی بغاوت سے ابھرنے والی تبدیلی کی قوتیں نئی پارلیمنٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی ہیں مگر انہیں عملی میدان میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے تقریباً 14 پارلیمانی نشستیں حاصل کیں۔ یہ سیٹیں ان حلقوں میں حاصل کی گئیں جہاں شیعہ جماعتوں حزب اللہ اور امل تحریک کے حامیوں کا گہرا اثرو نفوذ ہے۔

ان نشستوں پر کسی دوسری جماعت کے امیدوار کی کامیابی ناممکن بتائی جاتی رہی ہے مگر اس بار یہ ناممکن ممکن ہوگیا۔ یہ حلقے "ناقابل تسخیر" حلقے تبدیلی کی قوتوں نے مسخر کر لیے۔ ان میں جنوب۔ کوہ لبنان، بیروت، بقاع اور شمال لبنان کے حلقے شامل ہیں۔

لبنانیوں کی توجہ ان لوگوں کی طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں ایک متفقہ پارلیمانی بلاک تشکیل دیں جو ملک کو متاثر کرنے والے اہم مسائل پر مشترکہ موقف رکھتے ہوں اور ان مسائل کے حل میں دلچسپی بھی رکھتے ہوں۔

تبدیلی کے نمائندوں کا بلاک

اس تناظر میں جنوبی لبنان کے تیسرے حلقے کے منتخب نمائندے الیاس جرادی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ "تبدیلی کے علم بردار ارکان کے لیے پارلیمانی بلاک کی تشکیل لازمی ہے۔ یہ کوئی آپشن نہیں۔ ہم نہ صرف تبدیلی کے نمائندوں کو شامل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں بلکہ ہر وہ شخص جو ہمارے تجویز کردہ نقطہ نظر سے متفق ہے ہم اسے بھی ساتھ لے کرچلنے کو تیار ہیں‘‘۔

ماہر امراض چشم جسے حزب اللہ اور امل تحریک کی حمایت یافتہ فہرست کے خلاف "ٹوگیدر فار چینج" لسٹ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھی فراس حمادن حزب اللہ کے تاریخی اتحادی، شامی سوشل نیشنلسٹ (آرتھوڈوکس)کے سربراہ اسعد حردان ’درز‘ بنکار مروان خیرالدین کو شکست دے کر پالیمنٹ میں آنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشی مسائل کی فکرسب سے زیادہ ہے اور اس مسئلے کا حل ان کی پہلی رجیح ہے۔ یہ ان موضوعات میں سب سے مقدم ہے جن پر نئی پارلیمنٹ کو بحث کرنی چاہیے اور اس کے فوری حل کی تلاش کرنی چاہیے۔ معاشی اور مالیاتی زوال کا خاتمہ صرف اداروں کے کام کی باقاعدگی اور ان کی مضبوطی سے ہی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی تباہی آج خود کو ایک ترجیح کے طور پر مسلط کر رہی ہے، لیکن ہتھیاروں کے مسئلے کا حل بعد میں اور دفاعی حکمت عملی کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت کا مطلب ہر وہ کسان، مزدور اور سپاہی ہے جو اپنی زمین کا دفاع کرتا ہے اور یہ کسی مخصوص گروہ تک محدود نہیں ہے۔

لبنانی پارلیمنٹ کے اندر روایتی سیاسی قوتوں کی تقسیم کے نقشے میں قابل ذکر تبدیلی لانے اور بنیادی متنازعہ مسائل کے بارے میں کھل کر بحث کرنے کے لیے چینج ممبران پارلیمنٹ کے بلاک پر اعتماد کر رہے ہیں، جن میں شاید سب سے نمایاں حزب اللہ کے ہتھیار ہیں۔ تبدیلی کے پرچارک ارکان پارلیمنٹ حزب اللہ کے غیر قانونی ہتھیاروں کوصرف ریاست تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔

حزب اللہ کے ہتھیار

جنوب کی طرح بیروت میں بھی تبدیلی کی قوتیں حزب اللہ، امل اور ان کے اتحادیوں کی فہرست کو توڑنے میں کامیاب رہیں اور پانچ سیٹیں جیت لیں۔

لبنانی دارالحکومت کے منتخب نمائندے ابراہیم منیمنہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسلحے کو قانونون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں تک محدود رکھنا ضروری ہے اور یہ ایک ایسی دفاعی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے جو تمام لبنانیوں کی مرضی کا اظہار کرے اور اسے بیرونی طاقتوں کے ذریعے ایک مخصوص گروہ کی قیمت پر مسلط نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تبدیلی کے خواہاں ہیں اور ریاست کے اندر ریاست اور تنظیموں کے پاس اسلحہ رکھنے کے خلاف موقف اختیار کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی ہتھیار ملک کے تمام معاملات کو متاثر کرتے ہیں، لیکن اسلحے کا مسئلہ حل ہونے سے پہلے آنے والے بحرانوں کے حل کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔

منیمنہ نے کہا کہ تبدیلی کے اراکین پارلیمنٹ کی سربراہی کے لیے امل تحریک کے سربراہ نبیہ بری کو نئی مدت کے لیے منتخب نہیں کریں گے۔

جہاں تک لبنانی پاؤنڈ کی قدر میں گراوٹ اور ڈالر کی قدر میں اضافے کے بحران کا تعلق ہے تو نو منتخب رکن پارلیمنٹ نے وضاحت کی کہ ڈالر کے بحران کو حل کرنے کے لیے ان کا نقطہ نظرحکومت کی طرف سے گذشتہ ہفتے منظور کیے گئے اقتصادی بحالی کے منصوبے پر مبنی ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی منصوبہ "نامکمل" ہے۔ اس لحاظ سے کرنسی کی گراوٹ کا الزام بنکوں پر نہیں ڈالا جانا چاہیے اور بنکوں کی راز داری پالیسی کا خیال رکھنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں