سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں ہی سعودی شرح نمو طے شدہ ہدف سے بھی زیادہ ہو گئی۔
سرکاری طور پر تخمینہ ظاہر کیا گیا تھا کہ شرح نمو کی سطح 6۔9 فیصد رہے گی تاہم منگل کے روز جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق شرح نمو توقع سے بھی زیادہ یعنی 9۔9 فیصد ہو چکی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ شرح نمو میں یہ اضافہ تیل سے متعلق سرگرمیوں کا بڑھ جانا بنا ہے۔ حکام کے مطابق سعودی جی ڈی پی چوتھی سہ ماہی میں 6۔2 فیصد بلند تھی۔ اس کے مقابلے میں تیل سے متعلق سرگرمی سہ ماہی بنیادوں پر 9۔2 فیصد تھی۔ اب یہ سطح 3،20 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
سعودی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ خام تیل اور قدرتی گیس کی سطح بلند ترین رہی اور مجموعی شرح نمود میں ان دونوں کا حصہ 32 اعشاریہ 4 فیصد رہی۔ اس کے مقابلے تیل کے علاوہ معاشی سرگرمیوں کی سطح میں تین اعشاریہ سات فیصد رہی ہے جبکہ ماضی میں یہ سطح صفر اعشاریہ نو فیصد تھی۔