شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی شام میں ایک فوجی بس پر حملے کے نتیجے میں 13 فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ دو فوجی زخمی ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ شام کے صوبے الرقہ میں پیش آیا۔ٹی وی رپورٹ میں اس حملے کی نوعیت کے بارے میں نہیں بتایا گیا کہ آیا بس پر بم دھماکے سے حملہ کیا گیا یا فائرنگ سے۔
اس حملے کی فوری طور پر ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ اس علاقے میں عام طور پر داعش کے جنگجو ہی کارروائی کرتے ہیں اور انہوں نے اس سے قبل بھی کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے مگر اس حملے کے بارے میں ابھی حتمی طور پر ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی۔
داعش نے سنہ 2014ء میں عراق اور شام میں ایک وسیع علاقے پر اپنی خود ساختہ خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا اور الرقہ شہر اس خلافت کا مرکز قرار دیا گیا تھا۔ داعش کو 2019 میں شکست دے دی گئی تھی مگر اس کے خفیہ سیل ابھی بھی کئی علاقوں میں متحرک ہیں۔
شامی حکام نے ہمیشہ سے ایسے حملوں کی ذمہ داری داعش پر عائد کی ہے۔داعش کے سیل شام کے مشرقی، شمالی اور وسطی علاقوں میں مختلف کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہتے ہیں۔
-
روس پر شام میں موجود امریکی اور اتحادی فوج پر حملوں کا الزام
امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ روسی افواج نے رواں ماہ شام میں امریکی قیادت میں قائم ...
مشرق وسطی -
روس کا شام پر اسرائیلی حملوں پراظہار تشویش
ماسکو میں اسرائیلی سفیر کو بلا کر اسرائیلی فضائی حملہ بلا جواز قرار دیا گیا
بين الاقوامى -
سعودی پاسپورٹ میں کن فوٹو گرافروں کی تصاویر شامل کی گئی ہیں؟
سعودی عرب کے نئے پاسپورٹ کےاندرونی صفحات پرمملکت کے دو مشہور فوٹو گرافروں ظاہر ...
بين الاقوامى