ایران اور روس میں معاہدے کے باوجود شام میں کارروائیاں جاری رکھیں گے: اسرائیلی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے انکشاف کیا کہ ایران اور روس کے درمیان ڈرون فروخت کرنے کے معاہدے میں شام میں اسرائیل کی کارروائیوں کو محدود کرنے کا معاہدہ شامل ہونے کی توقع نہیں ہے۔

اہلکار نے اسرائیلی اخبار "اسرائیل ہیوم" کوبتایا کہ عام طور پر اسرائیل روس اور ایران کے درمیان تعلقات کو پسند نہیں کرتا۔ آنے والے دنوں میں روسی صدر کے متوقع دورہ تہران اور ایک صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات ہوگی۔

اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ روسیوں کی بنیادی ضرورت خاص طور پر ڈرونز کی انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کی صلاحیتوں سے متعلق تھی، نہ کہ ان کی جارحانہ صلاحیتوں سے۔

ڈرون ڈیل

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں انکشاف کیا تھا کہ ایرانی ساختہ سینکڑوں ڈرون فراہم کرنے کے لیے ایک بڑا معاہدہ کیا گیا ہے، جو گائیڈڈ میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جبکہ ’سی این این‘ کو موصول ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر اور معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ جون میں روسی نمائندوں نے ان ڈرونز کے بارے میں اپنے تاثرات حاصل کرنے کے لیے ایرانی فضائیہ کے ایک اڈے کا دورہ کیا۔

امریکی حکام نے CNN کو بتایا کہ ایران نے جون میں تہران کے جنوب میں واقع کاشان ہوائی اڈے پر روس کو شاہد -191 اور شاہد -129 طیاروں کی نمائش کرائی جنہیں ڈرون بھی کہا جاتا ہے۔

دونوں قسم کے ڈرون گائیڈڈ میزائل لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ تہران نے بغیر پائلٹ کے طیاروں کے بیڑے کو تیار کرنے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے جو عام جنگی طیاروں کے لیے ایرانی فضائیہ کا سستا اور موثر متبادل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں