ایران میں دس روز میں سیلاب کے نتیجے میں 56 افراد ہلاک، 18 لاپتہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے ریسکیو اینڈ ریلیف اتھارٹی کے سربراہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ حالیہ طوفانی بارشوں سے متعدد صوبوں میں ہلاکتوں کی تعداد 56 ہو گئی ہےجبکہ 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے مہدی ولی پور کے حوالے سے بتایا کہ "23 جولائی سے اب تک 21 صوبوں کو سیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جمعے کی شام کو ہونے والی طوفانی بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے راستان، تہران، یزد، اصفہان، چہارمحل اور بختیاری میں درجنوں مقامات زیر آب آگئے۔

ایرانی اہلکار نے بتایا کہ طوفان اس وقت یزد، چارمحل اور بختیاری صوبوں میں قبائل کے آباد علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

موسلا دھار بارش کی لہر نے ایران کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سیلابی ریلے پھوٹ پڑے۔ کچھ دریاؤں میں طغیانی آگئی جس نے ملک کے بیشتراضلاع کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے کمانڈر عبدالرحیم موسوی نے جمعہ کے روز ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کے بعد زمینی افواج کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مداخلت کرنے کی ہدایت کی۔

گذشتہ ہفتے جنوبی فارس صوبے میں آنے والے سیلاب سے 22 افراد ہلاک اور صوبے کے 24 دیہات متاثر ہوئے۔

اس ہفتے کا طوفان گذشتہ دہائی میں ایران میں بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں سب سے مہلک ہے۔

2019 میں جنوبی شہر شیراز میں اچانک سیلاب سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے۔ دو سال قبل اسی طرح کے طوفان نے شمال مغربی ایران میں 48 افراد کی جان لے لی تھی۔

حکام نے گذشتہ ہفتے تہران کے بعض علاقوں کے رہائشیوں کو شدید بارش اور ممکنہ سیلاب سے خبردار کیا تھا۔ اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں