عراقی عدلیہ نے مقتدیٰ الصدر کا پارلیمان تحلیل کرنے کا مطالبہ مستردکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کی عدلیہ نے واضح کیا ہے کہ اس کے پاس پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا کوئی اختیارنہیں ہے۔اس نے اتوار کو یہ وضاحتی بیان عراق کے سرکردہ اور مقبول شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر کے مطالبے کے جواب میں جاری کیا ہے۔

الصدر کے پیروکاراپنے حریف گروپ ایران نوازرابطہ فریم ورک کے خلاف گذشتہ کئی روز سےعراق کی پارلیمنٹ میں دھرنا دے رہے ہیں۔

ملک میں سیاسی ہلچل کے نئے موڑ میں شعلہ بیان مقتدیٰ الصدر نے گذشتہ بدھ کو عدلیہ پرزوردیا تھا کہ وہ نئی قانون سازاسمبلی کے انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے رواں ہفتے کے آخر تک پارلیمان کو تحلیل کر دے۔

لیکن عدلیہ نے جواب دیا کہ ’’سپریم عدالتی کونسل کو پارلیمان کو تحلیل کرنے کا کوئی اختیارحاصل نہیں ہے‘‘۔بیان میں’’اختیارات کی علاحدگی کے اصول‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

عراق کے آئین کے تحت پارلیمنٹ کو ایوان میں مکمل اکثریت کے ووٹ سے ہی تحلیل کیا جا سکتا ہے اور ایسا وزیراعظم کی درخواست پر ایک تہائی ارکان یا صدر کی منظوری کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔

عراق میں گذشتہ سال اکتوبرمیں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے قریباً 10 ماہ بعد بھی نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔پارلیمان میں نمایندگی کے حامل دھڑوں کے درمیان باربار جھگڑوں کی وجہ سے اس وقت ملک میں کوئی حکومت، نیا وزیراعظم یا نیا صدر موجود نہیں ہے۔

تیل کی دولت سے مالا مال لیکن جنگ زدہ ملک میں تازہ سیاسی ہنگامہ آرائی میں مقتدیٰ الصدرنے ’’پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد قبل ازوقت جمہوری انتخابات‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

سپریم عدالتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ الصدر کی جانب سے اس نظام پرتنقید سے اتفاق کرتی ہے کہ ’’پارلیمان جمہوریہ کا صدر، وزیر اعظم منتخب کرنے میں ناکام رہی ہے اور آئینی مدت کے اندر حکومت کی تشکیل بھی نہیں ہوسکی ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ یہ ایک ناقابلِ قبول صورت حال ہے۔اس کا ازالہ ضروری ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے مخالف سیاسی اتحاد رابطہ فریم ورک مخالفین نے جمعہ کے روز بغداد میں دھرنا شروع کیا تھا۔اس سے قریباً دو ہفتے قبل الصدر کے حامیوں نے پارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا تھا اور پہلے اس کے اندراورپھر مقننہ کے باہر کھلے عام احتجاج شروع کیاتھا۔

ٹویٹر پرالصدر کے قریبی ساتھی صالح محمد العراقی نے کہا کہ ’’اب وقت آگیا ہے،عراقی عوام میں یہ ظاہر کیا جائے کہ دونوں فریقوں میں سے کس کو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے‘‘۔

انھوں نے ملک بھر میں الصدر کے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تاریخ بتائے بغیر بغداد میں ’’ملین افراد پر مشتمل مظاہرے‘‘کے لیے ریلی نکالیں۔

الصدر کے کیمپ نے رابطہ فریم ورک کی جانب سے ایک ایسے امیدوار کو نامزد کرنے کے بعد دھرنے کا آغاز کیا تھا جسے وہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے ناقابل قبول سمجھتے تھے۔

مقتدیٰ الصدر کے بلاک نے گذشتہ سال منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھی۔پارلیمان میں ان کےبلاک کے ارکان کی تعداد ایک چوتھائی (73) تھی لیکن اس کے باوجود وہ حکومت سازی کے لیے درکار مزید ایک چوتھائی ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کے بعد جون میں انھوں نے احتجاج کے طور پر پارلیمان ہی کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں