عراق میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاعصائب اہل الحق کے رہ نما قیس الخزعلی نے ملک بھر میں تنظیم کے دفاتربند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عراق میں متحارب شیعہ گروپوں کے درمیان اسی ہفتے دارالحکومت بغداد اور اس کے بعد جنوبی شہر بصرہ میں جمعرات کو خونریزجھڑپیں ہوئی ہیں۔ملک میں جاری سیاسی بحران نے سرکردہ شیعہ عالم دین مقتدیٰ الصدر کے پیروکاروں کوایران کی اتحادی جماعتوں اور نیم فوجی گروہوں کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔
ٹویٹرپر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں الخزعلی نے تاحکم ثانی ملیشیا کے دفاتر بند کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنے پیروکاروں پرزوردیا کیا کہ وہ دفاتر جلانے جیسی کسی اشتعال انگیزی کاارتکاب نہ کریں۔
اس سے قبل جمعرات کو رائٹرز نے مقامی سیکورٹی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ جنوبی شہر بصرہ میں حریف شیعہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ بصرہ میں رات بھر اور جمعرات کی صبح تک لڑائی ہوتی رہی ہے۔
قبل ازیں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اوران کے حریف ایران نوازدھڑوں کے درمیان بغداد میں جھڑپیں ہوئی تھیں اوران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے نے انتہائی محفوظ گرین زون کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا تھا۔
گذشتہ پیر کے روز گرین زون میں سرکاری ہیڈ کوارٹر پردھاوا بولنے کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں میں مقتدیٰ الصدر کے 30حامیوں کی جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔گرین زون میں عراق کی پارلیمان، ریاستی اداروں کے دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
الصدر کے نمائندے محمد صالح العراقی نےبصرہ میں اپنے حامیوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور انھوں نے قیس الخزعلی پر شدید تنقید کی۔
انھوں نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’’میں تمھیں خبردار کرتا ہوں، قیس! اگرآپ اپنی سرکش ملیشیا کو نہیں روکتے اور اگر آپ اپنے آپ کو ان قاتلوں اور مجرموں سے بری نہیں کرتے جو آپ سے وابستہ ہیں تو پھرآپ بھی سرکش ہیں‘‘۔
عصائب اہل الحق ملیشیا حشدالشعبی کا حصہ ہے۔ یہ ایران کا حامی سابق نیم فوجی نیٹ ورک ہے اور اب اس کو عراق کی سکیورٹی فورسز میں ضم کیا جا چکا ہے۔