بصارت سے محروم 40 نابینا افراد نے ریفلیکسولوجی سیشن فراہم کرنے کے لیے پاؤں کی مالش کی تربیت دی ہے۔
"لک تقت" ٹیم کے سربراہ حسنی بوق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس ٹیم میں 30 نوجوان اور 10 لڑکیاں شامل ہیں، یہ سبھی بینائی سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "لک تقت" سلوگن کے معنی "موٹیویشنل فٹ مساج کے لیے بلائنڈ ٹچ" کے فقرے کے ابتدائی حروف ہیں۔ ٹیم کا خیال پاؤں کی مالش کے سیشن فراہم کرنا ہے۔ جسے عرف عام میں اس قسم کی خدمت کے خواہاں افراد کے لیے "ریفلیکسولوجی" کا نام دیا جاتا ہے۔
تربیت اور بحالی
انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیم جو پیغام دینا چاہتی ہے وہ یہ ہے کہ کمیونٹی کو نابینا افراد کی قابلیت، اہلیت اور ہنر سے آشنا کر کے ایک مخصوص سروس فراہم کی جائے، جو کہ پاؤں کی مالش ہے، تاکہ سعودی عرب کے 2030 کے وژن کو پورا کیا جا سکے۔ اپنی معذوری کے لیے موزوں پیشے میں تربیت، بحالی اور ملازمت کے ذریعے معاشرے میں بصارت سے محروم افراد کو معاشرے کے کارآمد شہری بنا کروژن کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نابینا ٹیم نے مرد اور خواتین دونوں پر مشتمل ہے اور یہ مردو خواتین سب کو پاؤں کی مالش اور پورے جسم کے آرام دہ مساج کی سرو فراہ کرتی ہے۔ انہوں نے کئی تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا۔ٹیم نے سرکاری اور نجی اداروں کی سرگرمیوں میں کمیونٹی کی شرکت اور مختلف غیر منافع بخش اور غیر منافع بخش انجمنوں کے ذریعے تربیت بھی حاصل کی ہے۔
پیروں کی مالش کے فوائد کے بارے میں بوقس نے کہا کہ مساج پٹھوں میں درد کو کم کرتا ہے جو عام طور پر جسم پر اثر انداز ہوتا ہے، تناؤ کو دور کرتا ہے اور ڈپریشن اور پریشانی کے احساسات کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ مساج آرام دہ اور پرسکون محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جسم میں درد کو بھی کم کرتا ہے۔ توجہ میں اضافہ اور سمجھنے اور جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا اور جسم کوبہت سی تکالیف سے نجات دلاتا ہے۔