ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی راب میلی نے اپنے ایک ٹویٹ پر معافی مانگ لی ہے۔ امریکی سفارتکار نے اپنے ایک حالیہ ٹویٹ کو ایک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ' میں اس اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہوں۔ '
اعلیٰ امریکی سفارت کار نے پیر کے روز ایرانی مظاہرین کے بارے میں ایک ٹویٹ کیا تھا۔ ایران میں یہ مظاہرے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں۔
واضح رہے 22 اکتوبر کو راب میلی نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا ' ایرانی مظاہرین ایرانی رجیم سے اپنی عزت کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔' ان کے اس ٹویٹ کے فوری بعد تنقید شروع ہو گئی۔ کہا گیا کہ انہوں نے ایرانی مظاہرین کے مطالبات کو کم کر کے دیکھا ہے۔
اب پیر کے روز ایران میں امریکی ایلچی نے اسے اپنی غلطی مانتے ہوئے کہا ہے 'یہ وہ کام نہیں تھا جو مجھے کرنا چاہیے تھا، خصوصاً اس طرح کے اس سے مظاہرین کے مطالبات کم کر کے ییش کیے ۔ '
یہ بات راب میلی نے واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک 'کارنیگی' میں خطاب کے دوران کہی۔ میلے کے اس ٹویٹ پر بہت سے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں اس ٹویٹ کے بعد سفارت سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
اب پیر کے روز میلے نے کہا ' یہ ہم پر منحصر نہیں اور مجھ پر ہے کہ ایرانی کیا چاہتے ہیں۔ ایرانی مظاہرین اپنا کام بہت اچھا کر رہے ہیں۔ وہ اپنے ضمیر کی آواز درست بلند کر رہے ہیں۔'
امریکی سفیر کے ٹویٹ پر ان لوگوں نے زیادہ تنقید کی جو سمجھتے ہیں کہ ایرانی رجیم کی تبدیلی کے لیے کوشش کر رہے نہ کہ محض موجودہ رجیم سے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ واشنگٹن سے لے کر دنیا کے مختلف شہروں میں احتجاج کرنے والے ایرانی مظاہرین کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔