سعودی عرب کی آرٹسٹ سمر جس نے آرٹ کو انسانی خدمت کا ذریعہ بنایا
آٹزم کا شکار خاندانوں کےلیے سعودی آرٹسٹ کی پینٹنگ 10 لاکھ ریال میں فروخت
سعودی عرب کی ایک آرٹسٹ کی پینٹنگ ایک نیلامی میں 10 لاکھ ریال مالیت میں فروخت ہوئی ہے۔ سمر الحریص کی یہ پینٹنگ آٹزم کا شکار خاندانوں کے علاج اور ان کی بحالی کے لیے فروخت کی گئی ہے۔
سمر کی یہ پینٹنگ ریاض میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران دس لاکھ ریال میں فروخت ہوئی۔ یہت تقریب پیلس آف کلچر میں "آٹزم فیملیز" ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام "فیدر اسپیکٹرم" اقدام کے لیے سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی سرپرستی میں منعقد کی گئی تھی۔
سمرالحریص ایک مشہور سعودی آرٹسٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹ سیکھنے کا مقصد انسانیت کی خدمت کرنا ہے اور انہوں نے آرٹ کو انسانی خدمت کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی ایک پینٹنگ کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سمر الحریص نے کہا کہ اس نے ایک بچے کے ساتھ یہ پینٹنگ اس وقت شیئر کی جب اسے ’طیف فیدر‘ اقدام میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ اس لیے کہ وہ رضاکارانہ کام کی مداح ہیں جو ایک ایسے گروپ کی خدمت کرتا ہے۔اس بات کی ضرورت ہے کہ کمیونٹی آٹزم کے متاثرین ے ساتھ کھڑی ہو۔ اس لیے اس نے آٹزم کے اسپیکٹرم کے بارے میں پڑھنا شروع کیا اوریہ جان کاری حاصل کی کہ اس میں مبتلا شخص کے ساتھ کیسے برتاؤ کیا جائے۔ میں نے سوچا کہ میں پینٹنگ کے ذریعے آٹزم کے متاثرین کی مدد کرسکتی ہوں۔ اس عارضے کے شکار لوگوں کی مدد میرا مشن بن گیا اور میں نے یہ پینٹنگ بنانا شروع کی۔
پینٹنگ فروخت
سمر الحریص نے مزید کہا کہ پینٹنگ کو 10 لاکھ ریال میں بیچتے وقت اس کے جذبات اس کے دل میں سب سے زیادہ خوشی کے لمحات میں سے ایک تھے۔ عطیہ دینے کا ہمیشہ ایک الگ ذائقہ ہوتا ہے اور اس کے مستحق لوگوں کو دینے کی وجہ بننا خوشی کا احساس ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی پینٹنگ کی آمدن اور اسے اس قیمت پر بیچنے پر فخر ہے۔
آرٹ کا آغاز
اپنے آرٹ کے آغاز کے بارے میں سمیر الحریص نے کہا کہ میں نے فن کا آغاز اس وقت کیا جب میں ابھی بچی تھی۔ مگر وہ اس شوق کو لے کریونیورسٹی تک پہنچیں اور اس شعبے میں اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی۔ مشق کرکے اسے مزید پختہ کیا اور نمائشوں میں حصہ لے کر فن کی خدمت کے لیے رضاکارانہ کام کیا۔ اپنی فنی سطح کو ترقی دینے کے لیے دن رات کام کیا۔ سعودی سوسائٹی فار فائن آرٹس میں ایونٹس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور آرٹ ریتھم گیلری کے جنرل منیجرتک ترقی اس کی محنت کا ثمر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے فن پارے ایسے پیغامات ہیں جو اپنے ارد گرد کے احساسات یا واقعات کا اظہار کرتے ہیں، یا کسی خاص چیز کی تلاش کا نتیجہ، جس سے نئے خیالات کی پیدائش کے لیے تحریک شروع ہوتی ہے۔
خوبصورتی کی صنعت
سمرالحریص نے مزید کہا کہ جو چیز اس کےآرٹ ورک کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اس انداز میں خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو اس کی نمائندگی کرے۔ وہ اب بھی سیکھ رہی ہے اور فنکارانہ سطح کو مزید بلند کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اپنے حامیوں کے بارے میں سعودی آرٹسٹ نے وضاحت کی کہ اسے شروع میں اپنے خاندان کی طرف سے حمایت ملی اور آرٹسٹ برادری کی طرف سے اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وہ سعودی لڑکی کے طورپر قابل آرٹسٹ کی سطح تک پہنچنے کی خواہش رکھتی ہیں اور ایک ایسا آئینہ بننا چاہتی ہے جو ہماری ثقافت اور مستقبل کی خواہشات کی عکاسی کرے۔
انہوں نے اپنی گفتگوکا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا فن ابلاغ کی زبان ہے جسے دنیا کے تمام لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ دلوں تک پہنچتی ہے اور جذبات کو ابھارتی ہے۔ اس لیے میں دیکھتی ہوں کہ آرٹ ورک کسی بھی انسان کی شرکت میں سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ تقریب دنیا بھر میں اپنی نوعیت کے پہلی کوشش ہے جس میں 5 سعودی خطوں میں 100 سعودی آرٹسٹوں نے حصہ لیا۔