العلا گورنری کے شاہی کمیشن نے خیبر گورنری میں نمایاں ترین ثقافتی ورثے کے مقامات کو پھر سے فعال کرنے کاانکشاف کیا ہے۔ اس ثقافتی ورثے کے احیا کا کام تاریخی خیبر نخلستان کی تجدید اور ترقی کے لیے پائیدار ترقیاتی منصوبے کے ایک حصہ کے طور پر کیا جارہا ہے۔ سعودی عرب میں العلا، تیما اور خیبر کی قدیم عرب سلطنتوں کے نخلستانوں کوجوڑنے کے فریم ورک کے تحت بہت سے سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔
صوبہ خیبر ایک نمایاں تاریخی صوبوں میں سے ایک ہے جو شاندار قدرتی خطوں اور منفرد ثقافتی پرکشش مقامات پر مبنی ہے۔ خیبر میں مملکت کے سب سے بڑے آتش فشاں میدانوں میں سے ایک بھی موجود ہے۔
چار اہم علاقے
العلا کا شاہی کمیشن خیبر گورنری میں چار اہم علاقوں میں آثار قدیمہ کے مقامات کو بحال کرنے کا کام کر رہا ہے۔ ان مقامات میں الروان گاؤں، عین الجمہ، خیبر نخلستان شامل ہیں۔ ان تینوں مقامات پر حیرت انگیز نظاروں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ چوتھا مقام غار ام جرسان ہے جسے فعال کیا جائے گا۔
خیبر میں روایتی دستکاری
سعودی وژن 2030 کے اہداف اور خواہشات کے مطابق، اتھارٹی خیبر میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بااختیار بنا کر روزگار کے مواقع پیدا کئے جا رہے ہیں۔ اتھارٹی کے عزائم خیبر کو ترقی دینے کے لیے تیما اور العلا میں جاری منصوبوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں، ۔ مقامات کی مشترکہ تاریخ ہے جو شمال مغربی عرب کی روایات، ثقافت اور ورثے میں جڑی کہانی بیان کرتی ہے۔ اس خطے کو دنیا کے سب سے بڑے زندہ میوزیم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔