مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ملکوں میں ڈیجیٹل اکانومی کا تیزی سے فروغ
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں ڈیجٹل اکانومی میں تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ اس سلسلے میں دستیاب ہونےوالے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران 91 فیصد صارفین مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ملکوں میں آن لائن خرید داری کی ہے۔
اس سلسلے کی شاپنگ میں 46 فیصد فیشن کی ضروریات اور کپڑوں سے متعلق ہے۔ ان ممالک میں ہر پانچویں شہری نے خوردہ اشیاء کی خرید داری آن لائن کی ہے۔ اس پہلے برسوں میں ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے یہ رجحان نہیں تھا۔ ان اعدادو شمار سے پہلے برسوں میں فیشن اور کپڑوں وغیرہ کی خرید داری 33 فیصد تک تھی۔
بتایا گیا ہے کہ اوپر بیان کیے گئے اعدادو شمار 2022 کے دوسرے مرحلے کے ہیں۔ 2022 کے پہلے حصے سے متعلق اعدادو شمار پچھلے ماہ جاری کیے گئے تھے۔ ان میں 15000 صارفین بھی دکھائے گئے تھے۔
تازہ رپورٹ میں اس حوالے سے کاروباری لوگوں اور ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق متحرک لوگوں سے انٹرویوز کیے گئے ہیں۔ ' مینا ' کے نائب صدر ریمو گیوطانی ابونداندولو نے اس بارے میں کہا ' دس سال پہلے ہمیں اگر علاقے میں یہ بات سمجھ آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ نئی حرکیات کو روکنا نا ممکن ہے۔ خطے میں تبدیلی بہت تیزی سے آرہی ہے۔ ہمارے خوردہ سطح پر خریدداری ڈیجٹلائز ہو گیا ہے۔ '
انہوں نے کہا ' پورے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں ہر پانچواں صارف آن لائن شاپنگ کر رہا ہے۔ رواں سال اس میں آن لائن خرید داری میں بہت تیزی آچکی ہے۔
الفطیم گروپ کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ نے پال کیری نے کہا ' ڈیجیٹل اکانومی سسٹم کی وجہ سے حکومت ، کاروباری کمپنیوں اور سٹارٹ اپس کے شعبوں کو مل کر کام کرنے میں بھی آسانی ملے گی۔ یہ پورے علاقے میں نسبتا زیادہ آسان طریقہ ہے۔ ' دستیاب اعدادو شمار کے مطابق 53 فیصد صارفین کھانے سے متعلق اشیا آن لائن خریدتے ہیں۔ پچھلے سال یہ شرح 42 فیصد تھی۔