واشنگٹن نے ایران میں مظاہروں کی بھرپور حمایت پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی ایرانی حکومت کو عوام کی تبدیلی کی خواہش پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
’’ایران انٹرنیشنل‘‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ امریکا کے محکمہ خارجہ کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے بیرون ملک بھی لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان کی آزادی کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
300 ہلاکتیں اور لاکھوں ڈالر کا نقصان
امریکی محکمہ خارجہ نے ایرانی حکومت کی جانب سے وسط ستمبر سے جاری احتجاج کے دوران میں مظاہرین کے خلاف جابرانہ طریقے استعمال کرنے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ رپورٹ امریکی وزارت کی جانب سے مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست شائع کرنے کے چند گھنٹے بعدسامنے آئی ہے۔ امریکی لسٹ میں چین، ایران اور روس کو نہ صرف شامل کیا گیا بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ یہ "خصوصی تشویش والے ممالک" ہیں۔
خود ایرانی پاسداران انقلاب نے اس ہفتے اعلان کیا تھا کہ ایران میں 16 ستمبر کوشروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل نے بھی کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کے علاوہ تشدد سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لاکھوں ڈالر لگایا گیا ہے۔
بڑے پیمانے پر مظاہرے
واضح رہے کہ ایران میں عوام آنے والے دنوں میں مزید بڑے پیمانے پر مظاہروں کی تیاری کر رہے ہیں جب کہ حکام ان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام نے مظاہروں کی حمایت کرنے پر فوج کے 115 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔