عراقی فوج کا میجر ادارے میں موجود کرپشن کے خلاف پھٹ پڑا
فوجی افسر کی جان کی امان پر وزیراعظم السودانی سے ملاقات کی درخواست
عراقی فوج کےایک میجرنے اپنی جان کی امان کی درخواست کے ساتھ ایک ویڈیو کلپ میں وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف محمد شیاع السودانی سےبراہ راست ملاقات کی درخواست کی ہے۔
عراقی فوج میں شامل افسر علاء حاتم نایف مزال علی نے اپیل کی کہ وہ السودانی سے مل کر ان سے وضاحت کریں گے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اندر کیا ہو رہا ہے۔
"بچہ سرمئی ہو رہا ہے"
انہوں نے مزید کہا کہ فوج میں بدعنوانی کی بہت زیادہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کرپشن کی صورت حال کو تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ "یہاں تک کہ ایک بچہ بھی اس سے سرمئی ہو رہا ہے۔"
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ فوج کے اندر بدعنوانی کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ عراق میں دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔ فوجی افسر کا کہنا تھا کہ فوج میں بدعنوان لیڈر بھی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ میڈیا کے سامنے دیگر تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔ وہ صرف وزیراعظم کے سامنے بات کریں گے۔
عراقی فوج کے میجر کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کے بعد انہیں اپنی زندگی خطرے میں لگتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "دہشت گردی مجھے نہیں مارے گی، لیکن فوج کے اندر موجود بدعنوان جو ہر اس آزاد شخص کو نشانہ بناتے ہیں جو بدعنوان اور ناانصافیوں کو بے نقاب کرتا ہے مجھے جان سے مار دیں گے۔"
⭕️ عاجل :
— Marwan Hatem🇮🇶🇫🇮 (@MarwanHatem32) December 14, 2022
ضابط عراقي يناشد السوداني: أعرف أنني سأقتل بعد هذا الفيديو لكن أريد أن أوصل لك رسالتي
الرائد آلاء حاتم نايف مزعل علي pic.twitter.com/xspdjolJYV
کرپشن کا پھیلتا ناسور
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بدعنوانی زیادہ تر سرکاری اداروں میں گھس چکی ہے، اور ملک میں متوسط درجے سے متعلق مقدمات میں شاذ و نادر ہی فیصلے سنائے جاتے ہیں۔
سنہ2020ء میں شائع ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عراق میں تقریباً 20 سال میں 400 ارب یورو سے زیادہ غائب ہونے کی وجہ بدانتظامی تھی، جس میں سے ایک تہائی ملک سے باہر چلا گیا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے "پرسیپشنز آف کرپشن" انڈیکس میں عراق 180 میں سے 157 ویں نمبر پر ہے۔