بشار اور شام

اماراتی وزیرخارجہ کا دورۂ شام، امریکا بشارالاسد سے معمول کےتعلقات کی حمایت نہیں کرتا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

واشنگٹن نے جمعرات کے روزبشارالاسد حکومت کے تحت شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے سے انکارکا اعادہ کیا ہے۔اس نے یہ بیان متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ کے دمشق کے دورے کے بعد جاری کیا ہے۔

بشارالاسد اورمتحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے بدھ کے روزدمشق میں دوسال میں دوسری بارملاقات کی ہے۔اس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور ان کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لیکن امریکا،جس نے بشارالاسدحکومت اور اس سے معاملہ کرنے والوں پر سخت اقتصادی پابندیاں عایدکر رکھی ہیں، موجودہ شامی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی اورایسی کوششوں کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہے۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کونسل کے ایک عہدہ دار نے العربیہ کو بتایاکہ ’’اسدحکومت کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کے حوالے سے ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ہم اس کی حمایت نہیں کرتے‘‘۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ کے حالیہ دورۂ شام کے بارے میں پوچھے جانے پرمحکمہ خارجہ نے بھی یہی جواب دیا ہے۔

بشارالاسد نے گذشتہ سال متحدہ عرب امارات کا اچانک دورہ کیا تھا، جس پر واشنگٹن نے مارچ میں کڑی تنقید کی تھی۔

سنہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد عرب لیگ نے دمشق کی رُکنیت معطل کردی تھی اور خطے کے بیشتر ممالک نے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

حالیہ برسوں میں متعدد خلیجی اور عرب ممالک نے شام سے تعلقات کی بحالی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ان میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور اردن شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق ترکیہ مستقبل قریب میں صدر رجب طیب ایردوآن اوربشارالاسد کے درمیان ملاقات کا انتظام کرنے پرغور کر رہا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقِ قریب پالیسی کے سینیرفیلواینڈریو ٹیبلر نے کہا کہ’’واشنگٹن اورمغرب اسد کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائیں گے، لیکن انھیں اس بات کی پروا نہیں کہ ان کے اتحادی کیا کوشش کرتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں