سعودی عرب میں وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی نے فیصلہ کیا ہے کہ مقامی لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے جاری منصوبے کے تحت مدینہ منور میں مختلف پیشہ ورانہ ملامتوں میں مقامی شہریوں کی تعداد 40 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کر دی جائے گی ۔
وزارت نے اس سلسلے میں اگلے ذی الحجہ تک کا ہدف سامنے رکھا ہے۔ اس جاری منصوبے کا مقصد مقامی لوگوں کی لیبر مارکیٹ میں تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے۔
وزارت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مدینہ کے مقامی کارکنوں چالیس فیصد تک بروئے کار لانے کے لیے جن پیشوں اور سرگرمیوں کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں ریستورانوں کے مختلف شعبوں میں خدمات کی انجام دہی کے علاوہ فاسٹ فوڈ ، جوس و دیگر مشروبات کی دکانیں شامل ہیں۔
علاوہ ازیں اکیلے یا مخلوط استعمال کی عمارات ، بڑے بڑے کمپلیکسز اور بند تجارتی مراکز میں خدمات بھی اسی درجے میں شامل ہوں گی۔
جبکہ کیفے ، آئیس کریم شاپس۔ وغیرہ میں 50 فیصد مقامی لوگوں کے بر سر روزگار ہونے کے امکانات پیدا کیے جائیں گے۔ کھانے پینے سے متعلق اشیا کی تھوک کی دکانوں پر بھی مقامی لوگوں کی تعداد کا یہی تناسب ہدف بنایا گیا ہے۔
البتہ صفائی اور بار برداری وغیرہ کے شعبوں میں مقامی کارکنوں کی تعداد 20 فیصد تک رکھی جائے گی۔
وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے مطابق اکاونٹس اور اس نوعیت کی دوسری سرگرمیوں میں مدینہ کے ماقمی افراد کو 100 فیصد کھپایا جائے گا۔
-
سعودی ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان 2022ء کے سب سے بااثر عرب رہ نما قرار
روس کے ٹیلی ویژن چینل رشیاٹوڈے کے ایک سروے کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب میں ریکارڈ وقت میں مشرق وسطیٰ میں کم سن بچی کے دل کی کامیاب پیوند کاری
سعودی عرب میں میڈیکل سائنس میں ایک بڑی پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں ریاض کے کنگ ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں بچی دو ماہ سے لاپتا، ماں کا غم والم سے لبریز بیان
بیٹی کو ذہنی اور نفسیاتی عارضہ لاحق ہے، تلاش کی کوششیں تیزکی جائیں: گم ہونے والی ...
ایڈیٹر کی پسند