امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے پیر کے روزمشرق اوسط کے تین روزہ دورے کے پہلے مرحلے میں قاہرہ میں مصری صدرعبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ہے اور ان سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں پرتبادلہ خیال کیا ہے۔
بلینکن نے اتوارکوقاہرہ پہنچنے کے بعدکہا کہ وہ مصر کے ساتھ واشنگٹن کی ’تزویراتی شراکت داری‘کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ مصرامریکا کی فوجی امداد کا ایک بڑا وصول کنندہ ہے اوراس نے اسرائیل فلسطین تنازع میں ثالثی میں مدد کی ہے۔
مصر کے وزیرخارجہ سامح شکری کے ساتھ ایک مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلینکن نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے تصفیے کاواحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔
بلینکن نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیل اورمقبوضہ مغربی کنارے کے دورے کے موقع پرفریقین کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ حالات کو پرسکون کریں اورکشیدگی کو کم کریں۔
توقع ہے کہ وہ آج ہی مقبوضہ بیت المقدس جائیں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کریں گے۔نیتن یاہو کی نئی دائیں بازو کی حکومت کی پالیسیوں پر اندرون وبیرون ملک سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
اس کے بعد انٹونی بلینکن رام اللہ جائیں گے جہاں وہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس کے ایک بیان کے مطابق صدرالسیسی کے ساتھ ملاقات میں سوڈان میں سیاسی انتقال اقتدارکے دوبارہ آغاز کی کوششوں اور لیبیا میں حریف دھڑوں کے درمیان ڈیڈ لاک کو ختم کرنے سمیت علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں بلینکن نے ایران کے ساتھ صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایران کے اقدامات کے خلاف کام جاری رکھنا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکااور خطے میں ہمارے بہت سے شراکت داروں کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ ہم خلیج اوراس سے باہران مختلف اقدامات اور کارروائیوں سے نمٹیں اور ان کے خلاف کام جاری رکھیں جن میں ایران ملوّث ہے۔