فلسطینی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے کے شہر اریحا اور نابلس پر اسرائیلی قابض فوج کی طرف سے لگاتار تیسرے روز بھی مسلط کردہ محاصرہ ختم کرانے کے لیے بین الاقوامی اور امریکی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے نابلس اور اریحا کی ناکہ بندی کی وجہ سے دونوں شہروں میں نظام زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جس کےنتیجے میں کسی نئے بحران کا اندیشہ ہے۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے فلسطینیوں کی زندگیوں میں خلل ڈالنے، ان کی نقل و حرکت کو مفلوج کرنے اور اریحا اور نابلس کے شہروں کو حراستی مراکز میں تبدیل کرنے کا عمل قابض ریاست کی طرف سے فلسطینی آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں مریضوں کو اسپتالوں تک رسائی میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ فلسطینیوں کے بیرون ملک سفر میں رکاوٹ پیدا ہوچکی ہے ۔ یہ ناکہ بندی بلا جواز اورغیرقانونی ہے۔ عالمی برادری فلسطینی شہروں کی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
خیال رہے کہ گذشتہ تین روز سے اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے غرب اردن کے شمالی شہروں اریحا اور نابلس کی مکمل ناکہ بندی کررکھی ہے۔ اسرائیلی فوج محاصرے کےدوران گھر گھر تلاشی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے اریحا میں سرچ آپریشن کے دوران دو فلسطینی شہریوں کو شہید اور متعدد کو حراست میں لےلیا تھا۔