غزہ میں ایک پرتشدد رات کے گزرنے کے بعد جمعہ کی صبح ایک اضطراب کی کیفیت دیکھی گئی ہے۔ ’’العربیہ‘‘ اور ’’ الحدث‘‘ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی سے میزائلوں کا ایک نیا برسٹ اسرائیلی بستیوں کی جانب برسایا گیا۔ جمعہ کی صبح سیدیروت میں سائرن بجنے لگے۔ بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی بستیوں کی جانب 44 راکٹ فائر کیے جا چکے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب غزہ کی پٹی میں مختلف اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ فلسطینی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق لبنان کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے جانے کے بعد غزہ کی پٹی پر اس حملے میں اسرائیل نے فلسطینی کارکنوں کو نشانہ بنایا۔
مراسل #العربية: صفارات الإنذار تدوي في سديروت بعد إطلاق رشقة صاروخية جديدة من القطاع #العربية_عاجل#غزة pic.twitter.com/ZezWfzJ7gb
— العربية (@AlArabiya) April 7, 2023
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ وہ حماس کو لبنان کے اندر سے کام کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ صہیونی فوج نے کہا کہ لبنان سے نکلنے والی تمام آگ کی ذمہ دار لبنانی ریاست ہی ہے۔ جمعہ کی صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں حماس نے ملک کے جنوب میں واقع شہر صور کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنانے کے متعلق لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔
قبل ازیں ایک فلسطینی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے الگ الگ علاقوں میں عزالدین القسام بریگیڈز سے تعلق رکھنے والے کئی تربیتی مقامات پر حملے شروع کیے ہیں۔ اے ایف پی کے نامہ نگاروں کے مطابق غزہ کی پٹی میں زبردست دھماکوں کی آواز سنی گئی۔ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی پٹی کی فضاؤں میں پرواز کرتے رہے۔
اسرائیلی فوج نے بھی پٹی پر اپنی فضائیہ کے حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔ فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے کچھ دیر قبل شمالی غزہ کی پٹی کے علاقے بیت حانون کے علاقے میں ایک اور خان یونس کے علاقے میں ایک دہشت گرد سرنگ کو نشانہ بنایا ہے۔ شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی میں حماس کے ہتھیاروں کی تیاری کے دو مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے بیان میں غزہ کی پٹی سے ہونے والی تمام "دہشت گردانہ سرگرمیوں" کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا گیا۔
مراسل #العربية عبدالحفيظ جعوان: الغارات الإسرائيلية تستهدف أبراج مراقبة ومعسكرات في #غزة.. والفصائل الفلسطينية ترد بإطلاق صواريخ مضادة على المقاتلات pic.twitter.com/l5ud4MOa90
— العربية (@AlArabiya) April 6, 2023
جمعہ کو اسرائیلی فضائی حملوں سے قبل غزہ کے مسلح دھڑوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے اور اپنے لوگوں کے دفاع کرنے کے لیے مزاحمت کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
غزہ پر کنٹرول رکھنے والی حماس نے اپنے بیان میں کہا ہم القدس اور غزہ کے خلاف جارحیت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہیں۔ اپنی عوام، فوج اور تمام دھڑوں سے مطالبہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف تصادم میں متحد ہوجائیں۔ القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں تصدیق کردی ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی طیاروں کے حملے کا جواب دیا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی بمباری کے آغاز سے کچھ دیر قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو کی حکومت کے ایک اجلاس ہوا جس میں نیتن یاھو نے کہا کہ اسرائیلی رد عمل سے دشمن کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوؤو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیل تمام امکانات کے لیے تیار ہے اور اس کی افواج جانتی ہیں کہ آئندہ کسی بھی خطرے کا جواب کیسے دینا ہے۔