حج کے عظیم عبادت کے بڑے مناسک مکمل ہوچکے ہیں۔ حجاج کرام نے وقوف منیٰ، وقوف عرفہ، وقوف مزدلفہ اور رمی جمار سے مناسک ادا کیے اور اس دوران شدید گرمی کا موسم رہا۔ سعودی عرب کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ سعودی وزارت صحت کی ٹیموں نے اس دوران ساڑھے 6 ہزار حجاج کرام کی طبیعت گرمی کے باعث خراب اور نڈھال ہونے کے کیسز کو وصول کیا۔
سعودی وزارت صحت نے حجاج کرام کو خبردار کیا ہے کہ وہ براہ راست سورج کی روشنی میں نہ آئیں اور زیادہ دیر تک قطاروں میں نہ کھڑے ہوں۔
10 | ذو الحجة 🗓️
— وزارة الصحة السعودية (@SaudiMOH) June 28, 2023
تستمر الخدمات الصحية لضيوف الرحمن…
أخي الحاج: اتباعك للنصائح المقدمة دليل على وعيك. #حج_بصحة#بسلام_آمنين pic.twitter.com/V0x077Y7Ro
وزارت نے ہیٹ سٹریس کی علامات کو بھی واضح کیا۔ وزارت نے کہا کہ سر درد، متلی، چکر آنا، کمزوری، چڑچڑاپن، پیاس، ضرورت سے زیادہ پسینہ آنا، جسم کا زیادہ درجہ حرارت اور پیشاب کی پیداوار میں کمی ایسے علامات ہیں جس سے معلوم ہوتا کے متاثرہ شخص ہیٹ سٹروک کا شکار ہو گیا ہے۔
سعودی وزارت صحت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ضیوف الرحمن کو خبردار کیا کہ وہ ہیٹ سٹریس سے بچیں۔ گرمی کی صورت میں کافی ٹھنڈا پانی پیئیں، جوتے اور جرابوں سمیت غیر ضروری کپڑے اتار دیں۔ زخمی شخص کو کولڈ کمپریس سے ٹھنڈا کریں اور وزارت صحت کو نمبر 937 پر کال کریں۔
اور گرمی کی تھکن ایک پریشان کن اور ہنگامی بیماری ہے جو جان لے سکتی ہے، سعودی وزارت صحت کے ترجمان نے اس سے خبردار کیا