سعودی عرب میں دھڑ جڑے دو شامی بچوں کو الگ کرنے کا آپریشن شروع
احسان اور بسام سینے کے نچلے حصے، پیٹ، جگر اور آنتوں میں شریک ہیں
سعودی عرب میں شام کے تن جڑے جڑواں بچوں احسان اور بسام کو الگ کرنے کا آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ دارالحکومت ریاض میں بچوں کو آپریٹنگ روم میں لے جانے سے قبل دونوں کی بچوں کے آخری لمحات کی ویڈیو بنائی گئی۔ ان دونوں بچوں کو الگ کرنے کے لیے آپریشن 9 گھنٹے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
یہ آپریشن پانچ مراحل میں مکمل ہوگا۔ آپریشن میں کنسلٹنٹس، ماہرین، اور تکنیکی، نرسنگ اور معاون عملے کے 26 ارکان شریک ہیں۔
شامی جڑواں بچے بسام اور احسان 22 مئی 2023 کو جمہوریہ ترکیہ سے آئے تھے اور ان کی عمریں 32 ماہ ہیں۔ ان کا وزن ایک ساتھ 19 کلو گرام ہے۔ طبی ٹیم نے طبی معائنے کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے سینے کے نچلے حصے، پیٹ، جگر اور آنتوں میں شریک ہیں۔
ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ بچے "احسان" کو پیشاب اور تولیدی نظام کی کمی کی وجہ سے اپنے بھائی "بسام" پر انحصار کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ احسان کے دل میں بھی پیدائشی نقائص ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر احسان کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
آپریشن ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ طبی ٹیم نے جڑواں "بسام" کی زندگی کو بچانے کی خواہش کے تحت علیحدگی کا آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرجیکل ٹیم کو توقع ہے کہ بچہ "احسان" زندہ نہیں رہ سکے گا۔ سعودی عرب میں آپس میں جڑے ہوئے جڑواں بچوں کا یہ 58 واں آپریشن ہے۔