تونس کے ایک نوجوان نے وزارت داخلہ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے خود کو آگ لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقامی میڈیا نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ تونس کے دارالحکومت کے مرکز میں ایک نوجوان نے خود کو آگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی تاہم اسے بچالیا گیا ہے اور اسے علاج کے لیے ہستپال منتقل کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب حبیب بورقیبہ اسٹریٹ پر پیش آیا، جو وزارت داخلہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ہے جہاں 35 سالہ نوجوان نے راہگیروں کے سامنے خود آگ لگا دی۔

اس کے بعد اسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم اس کے اس کے اقدام کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔

یہ واقعہ 26 سالہ سبزی فروش محمد بوعزیزی کی یاد تازہ کرتا ہے جس نے 17 دسمبر 2010ء کو تونس میں خود سوزی کرکے ملک میں ایسے احتجاج کو جنم دیا تھا جس کے نتیجے میں اس دور کے مرد آہن زین العابدین بن علی کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

اپریل کے وسط میں تیونس کے فٹ بال کھلاڑی نزار عیساوی نے کیروان گورنریٹ وسط میں پولیس کی جانب سے اس کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگا کر ہلاک کر دیا۔

تونس فورم فار اکنامک اینڈ سوشل رائٹس کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2023 کے آغاز سے لے کر مئی تک تونس میں 72 افراد نے خودکشی کی۔

تنظیم نے اپنی رپورٹس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خودکشی کے سب سے اہم محرک ذہنی اور نفسیاتی بیماریاں اور مشکل سماجی حالات کے خلاف احتجاج ہیں۔

خودکشی کے زیادہ تر واقعات ملک کے اندرونی صوبوں میں ہوتے ہیں جہاں غربت اور بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں